Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش ہو جائیں ،جس چیز کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پسند کیا کرتے تھے وہ آپ کو عطا کردی گئی ہے ۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:’’ مجھے اس چیز سے زیادہ اور کسی چیز کی فکر نہیں تھی ، الحمد للہ عزوجل مجھے میری پسندیدہ چیز عطا کردی گئی ہے۔‘‘

            پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:’’ جب میری روح پر واز کرجائے تو مجھے اٹھا کرسرکارِ ابد ِقرار  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے روضۂ اقدس پر لے جانا ، پھر بارگاہِ نبوت میں سلام عرض کرنا اور حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کرنا:’’عمر بن خطاب اپنے دوستو ں کے ساتھ آرام کی اجازت چاہتا ہے ، اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کردینا اور اگر اجازت نہ ملے تو مجھے عام مسلمانوں کے قبر ستان میں دفنادینا ۔

              جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رو ح خالقِ حقیقی عزوجل سے جا ملی تو ہم لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد نبو ی شریف علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں لے گئے،اور حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حجرۂ مبارکہ سے باہر کھڑے ہو کر اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سلام عرض کیا ،اور حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجرۂ مبارکہ میں دفن کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت عطا فرمادی ، چنانچہ حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہکوحضورنبی ٔپاک، صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے جلووں میں حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

؎  وہ عمر جس کے ا عداء پہ شیدا سقر

اس خدا دوست حضرت پہ لاکھو ں سلام

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر8:                                                

 جنت کی خوشبو

            حضرت سیدنا انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہفرماتے ہیں :’’میرے چچا حضرت سیدنا انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوۂ بد ر میں نہ جاسکے ، جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے ا فسوس کرتے ہوئے فرمایا :’’ غزوۂ بد ر جو کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان پہلی جنگ تھی میں اس میں حاضر نہ ہوسکا ۔ اگراب اللہ ربُّ العزَّت نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کاموقع دیا تو تُودیکھے گا میں کس بہادری سے لڑتا ہوں ، پھر جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا توکچھ لوگ بھاگنے لگے ،میرے چچا حضرت سیدنا انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:’’اے میرے پر و ر دگار عزوجل!ان بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں ، میں ان کی طرف سے معذرت



Total Pages: 412

Go To