Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر202:           

ہرحال میں اللہ عزوجل کاشکراداکرتے

             حضرت سیدنا خالد بن ہامان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں ، میں نے حضرت سیدناابراہیم بن اسحاق حربی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے سنا :’’ ہرزمانے کے عقل مندو ں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو تقدیر پر راضی نہیں وہ اخروی زندگی میں کامیاب نہیں۔‘‘

             گویا میری قمیص سب سے زیادہ صاف قمیص اور میری چادر سب سے گندی چادر ہو پھر کبھی میرے دل میں یہ خیال نہیں گزرا کہ یہ دونوں ایک جیسی ہوں اور جب کبھی مجھے بخار ہوا تو اپنی والدہ ، بہن ، بیوی ، اور بیٹی یہاں تک کہ کسی سے بھی اس کی کبھی شکایت نہ کی۔ اچھاآدمی وہی ہے جو اپنے غم کو اپنی ذات تک محدود رکھے اور اپنے اہل وعیال کومغموم نہ کرے ۔

 ؎    ہم  اپنا  غم  کسی  کو  بتاتے  نہیں

   خود جلتے رہتے ہیں کسی کو جلا تے نہیں

             مجھے چالیس سال تک دردِ شقیقہ رہا مگر میں نے اس کے متعلق کبھی کسی کو نہ بتایا۔ د س سال میں صرف ایک آنکھ سے دیکھتا رہا کیونکہ دوسری آنکھ کی بینائی ضائع ہو چکی تھی۔ مگر میں نے کبھی کسی کو نہ بتایا ۔ تیس سال روزانہ میں صرف دو روٹیاں کھا کر ہی گزارہ کرتا رہا وہ بھی اگر میری ماں یا بہن لے آتیں تو کھالیتاورنہ اگلی رات تک بھوکا پیاسا رہتا ۔اپنی زندگی کے تیس سال اس طرح گزارے کہ روزانہ صرف ایک روٹی اور چودہ کھجوریں کھا تا۔اور اگر بالکل ادنی قسم کی کھجور ہوتی توروزانہ بیس کھجوریں استعمال کرتا ۔

             ایک مرتبہ میری بیٹی بیمار ہوگئی،میری بیو ی ایک مہینہ تک اس کے پاس رہ کر اس کی دیکھ بھال کرتی رہی ۔ اس مہینے ہمارا کھانے کا خرچ ایک درہم اور ڈھائی دانق ہوا ۔میں حمام میں گیا اور ان کے لئے دو دانق (یعنی درہم کے چھٹے حصے) کا صابن خریدا ۔ لہٰذا پورے رمضان المبارک کے مہینے کا خرچ ایک درہم اور ساڑھے چار دانق ہوا لیکن ہم نے اپنا یہ حال کسی پر ظاہر نہ کیا ۔‘‘

 

 

            {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

 

 



Total Pages: 412

Go To