Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

کہ اس سے پہلے میں نے کسی کو ایسی حالت میں نہ دیکھا تھا۔ ہم اس کے قریب گئے تو میرے دوست نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا: ’’یہ حضرت سیدنا منصور بن عمار  (علیہ رحمۃ اللہ الغفار) ہیں ، جن سے ملاقات کے آپ متمنی تھے۔ ‘‘ اتنا سننا تھا کہ وہ  جلدی سے اٹھا ،مجھ سے مصافحہ کیا اور میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا :’’ مرحبا ! مرحبا! اللہ عزوجل آپ کو درازیٔ عمر بالخیر عطا فرمائے ، مجھے اور آپ کو دنیا کے غموں سے بچا کر غمِ آخرت کی نعمت عطا فرمائے۔‘‘ وہ مجھے ایک ایسے کمرے میں لے گیا جہاں اس نے قبر کھو د رکھی تھی،اور میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا :’’ میری دیرینہ خواہش تھی کہ آپ سے ملاقات کرو ں اور اپنے دل کی سختی سے آپ کو آگا ہ کرو ں ، مجھے ایک بہت پرانا زخم ہے ،تمام معا لجین اس کے علاج سے عاجز آچکے ہیں ، اب آپ ہی میرے زخمی دل کا علاج کریں اور جو مناسب سمجھیں وہ مرہم میرے زخم پر رکھیں۔

            میں نے کہا :’’ اے میرے بھائی ! میں آپ کا علاج کس طر ح کروں میں تو خود زخمی ہوں اور میرا زخم تمہارے زخم سے کہیں زیادہ ہے ۔‘‘ اس نے کہا :’’ اگر واقعی ایسا ہے پھر تو میں آپ کا اور زیادہ مشتاق ہوں۔‘‘میں نے کہا : ’’اے میرے بھائی ! اگر تواپنے گھر میں قبر کھودکر اس سے عبرت حاصل کرتاہے اور اسے دیکھ دیکھ کر اپنے نفس کو مطمئن کرلیتا ہے اور موت سے پہلے ہی کفن خرید کر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ میں نے آخرت کی تیاری کرلی ہے تو بعض اولیاء کرام ایسے بھی ہیں کہ ان کے سامنے ہر وقت قبر کا ہولناک منظر ہوتا ہے وہ موت سے کبھی غافل نہیں ہوتے ۔ وہ ایسے ہیں کہ ان سے زیادہ حدود اللہ کی رعایت کرنے والا تو کسی کو نہ پائے گا ۔ ان کے دل اللہ عزوجل کی منع کردہ اشیاء کی طرف رغبت نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ جس د ن جھوٹے لوگ بہت زیادہ خسارے میں رہیں گے۔ ایسے لوگ صرف لوجہ اللہ اعمال کرتے ہیں اور ریا کا ری سے بچتے ہیں۔‘‘

             میری یہ باتیں سن کر اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اپنے گھر میں کھودی ہوئی قبر میں منہ کے بل گر پڑا ، انتہائی  کرب وتکلیف میں مبتلا شخص کی طر ح ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ اس کے گلے سے عجیب وغریب آواز آنے لگی۔ میں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور کہا ’’ اگر میری باتیں سن کر یہ شخص ہلاک ہوگیاتو گویامیں اس کے قتل کا سبب بنوں گا۔‘‘ مجھے اس کے سامنے ایسی نصیحت آموز باتیں نہیں کرنی چاہئے تھیں۔ اسے اسی حال میں چھوڑ کر میں اس گھر سے باہر آیا اور ایک چکی والے کے پاس جا کر سارا واقعہ کہہ سنایا۔ یہ سن کر چکی والے نے مجھے ڈانٹا اور کہا:’’ میرے ساتھ چلو تا کہ ہم اس کی کچھ مدد کریں۔‘‘ چنانچہ ہم جلدی سے اس کے گھر پہنچنے ، وہ اسی طر ح تڑپ رہا تھا ۔ہم نے فورا ًاسے باہر نکالا۔ اس کی حالت بہت نازک تھی ،اس کا جسم متعدد جگہوں سے زخمی ہوچکا تھا ۔

           


 

 



Total Pages: 412

Go To