Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

میں موسیٰ بن بغاء سے رخصت ہوکرحضرت سیدنا احمد بن بدیل کوفی علیہ رحمۃاللہ القوی کے پاس آیا اور کہا : ’’قاضی صاحب! مبارک ہو، امیر موسیٰ بن بغاء نے زمین والے معاملے میں آپ کوعافیت بخشی اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ میں نے وہ تمام باتیں جو ہمارے درمیان ہوئی تھیں ،تفصیلاًموسیٰ بن بغاء کو بتادیں۔ اب امیر موسیٰ بن بغاء نے یہ حکم دیا ہے کہ اگرآپ کو کوئی حاجت ہو تو ہمیں بتا ئیں ہم ضرور پورا کریں گے ۔‘‘

            قاضی صاحب نے اسے دعا ئیں دی اور کہا: ’’یہ سب اس کا صلہ ہے کہ میں نے ایک یتیم کے مال کی حفاظت کی، میں اس کے بدلے دنیوی مال ودولت کا طلب گار نہیں۔‘‘ پھر میں نے موسیٰ بن بغاء کے حکم سے قاضی صاحب کو ایک لونڈی ہبہ کر دی۔

 {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر197:                                         

گھر میں قبر

             حضرت سیدنا منصور بن عمار علیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں کہ مجھے میرے ایک نیک دوست نے بتایا:’’ ہمارے پاس ’’واسط‘‘ کا رہنے والا ابو عیاد نامی ایک مرد ِصالح ہے، وہ کثرت سے مجاہدے کرتا ہے۔ خوف خدا عزوجل کی عظیم سعادت سے مالامال ہے،نمک کے ساتھ روٹی کھاتا ہے ، ہمیشہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتاہے، وہ روزانہ دو دانق کماتا ہے، ایک دانق سے سحری وافطار کا سامان خرید لیتا ہے اور دوسرا دانق صدقہ کردیتا ہے ۔ اگر آپ اس کے پاس چلیں اور کلام فرمائیں تو وہ اس بات کو پسند کرے گا اور جب آپ اسے دیکھیں گے تو امید ہے کہ اس کی ملاقات سے آپ کو بھی فائدہ ہوگا ۔‘‘

            میں نے کہا:’’ میں اس سے ملاقات کا متمنی ہوں ، میں ضرور اس سے ملاقات کرو ں گا۔‘‘ چنانچہ ہم اس مردِ صالح سے ملاقات کے لئے اس کے گھر پہنچے۔ ہم نے دستک دی تو داخلے کی اجازت مل گئی۔ وہاں مجھے ایک ایسا شخص نظر آیا جسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کا دل دنیا سے اُچاٹ ہوگیا ہے۔وہ تنہائی پسند ہے اور لوگو ں سے اسے وحشت ہوتی ہے ،وہ خوفزدہ اور سہما سہما لگ رہا تھا ۔میں سمجھ گیا کہ مسلسل مجاہدات کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوگئی ہے اور یہ شخص سخت گرمیوں کے دنوں میں روزہ رکھتا اور ساری ساری رات قیام اورسجدوں میں گزار دیتا ہے ، اس کے جسم پر ٹا ٹ کا لباس تھا۔ وہ بھی صرف اتنا کہ جس سے ستر پوشی ہو سکے۔ اسے دیکھتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا۔ میں اسے دیکھ کر خوف محسوس کرنے لگا ۔اس کی حالت ایسی وحشت ناک تھی


 

 



Total Pages: 412

Go To