Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

اس کی بڑی خواہش تھی کہ اس لونڈی کے بطن سے اس کی اولادہو۔ کافی عرصہ تک اسے یہ خوشی نصیب نہ ہوسکی پھر اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے اس لونڈی کو استقرارِ حمل ہوا۔ اب تو اس مالدار نوجوان کی خوشی کی انتہانہ رہی ،وہ خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا ، انتظار کی گھڑیاں اس کے لئے بہت صبر آزما تھیں۔ بالآخر وہ وقت قریب آگیا جس کا اسے شدّت سے انتظار تھا لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ عزوجل چاہتاہے ۔ اچانک وہ مالدار نوجوان بیمارہوگیا اورکچھ ہی دنوں بعد اولاد کے دیدار کی حسرت دل ہی میں لئے اس بے وفا دنیا سے کوچ کر گیا۔ جس رات اس نوجوان کا انتقال ہوا اسی رات لونڈی کے بطن سے ایک خوبصورت بچے نے جنم لیا  لیکن مقدر کی بات ہے کہ اس کا باپ اسے نہ دیکھ سکا،وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتاہے ۔ ‘‘

؎    عمرِ دراز مانگ کر لائے تھے چار دن                                               دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

بلبل کو باغباں سے نہ صیّاد سے گلہ                                                 قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں

 

            (اللہ عزوجل ہم سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر182:                              

تخت سکندری پریہ تھوکتے نہیں

            حضرت سیدنا زائدہ بن قدامہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں :’’ حضرت سیدنا منصور بن معتمد علیہ رحمۃ اللہ الا َحد بہت متقی وپرہیزگار  شخص تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے چالیس سال اس حال میں گزارے کہ مسلسل روزہ رکھتے اور ساری ساری رات قیام فرماتے (یعنی عبادت کرتے )آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر راتوں کو روتے اوربڑے دردبھرے انداز میں اپنے پاک پروردگار  عزوجل کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرتے ،روتے روتے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ہچکیاں بندھ جاتیں ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی والدہ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا فرماتیں :’’ اے میرے لال ! کیا تو اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈال کر ہلاک کرنا چاہتاہے ؟‘‘تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عاجزی کرتے ہوئے فرماتے:’’ اے میری پیاری ماں ! میں اپنے نفس کے کارناموں سے خوب آگاہ ہوں ،میں اپنی حالت خوب جانتا ہوں کہ نفس مجھے کس طرح گناہوں میں مبتلا کرنا چاہتاہے ۔‘‘

            حضرت سیدنا زائدہ بن قدامہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں :’’آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑیوں کی مانند نرم ونازک اور خوبصورت تھے۔ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی نورانی آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ سرِمبارک میں تیل ڈالا اور


 

 



Total Pages: 412

Go To