Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پھر وہی آیت یاد آگئی ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک لقمہ بھی نہ کھایا اورفرمایا:’’ یہ کھانا مجھ سے دورلے جاؤ ۔‘‘ اسی طرح تیسرے دن بھی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہنے بغیر کچھ کھائے اسی طرح روزہ رکھ لیا۔

            آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے نے جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ حالت دیکھی کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے بغیر کھائے پئے تین دن گزار دیئے ہیں تو وہ بہت پریشان ہوئے اورزمانے کے مشہور ولی حضرت سیدنا ثابت بنائی ، حضرت سیدنا یحییٰ اوردیگر اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورعرض کی: ’’حضور!آپ جلد از جلد میرے والد کی مدد کو پہنچئے، انہوں نے مسلسل تین دن صرف چند گھونٹ پانی پی کر روزہ رکھا ہے اورتین دن سے کھانے کا ایک لقمہ تک نہیں کھایا ۔ ہم جب بھی ان کے سامنے سحری یا افطاری کے لئے کھانا پیش کرتے ہیں تو انہیں قرآنِ پاک کی یہ آیت یاد آجاتی ہے :

اِنَّ لَدَیْنَااَنْکَالًاوَّجَحِیْمًا0وَّطَعَامًا ذَاغُصَّۃٍ وَّعَذَابًااَلِیْمًا0     ۲۹،المزمل: ۱۲،۱۳)

 ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ اورگلے میں پھنستا کھانا اور درد ناک عذاب۔

اورآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھانا کھانے سے اِنکار فرمادیتے ہیں ، خدارا !جلدی چلئے اور یہ معاملہ حل فرمایئے۔‘‘ یہ سن کر تمام حضرات حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پا س آئے ،جب افطاری کا وقت ہوا تو پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مذکورہ آیت یاد آ گئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کھانا کھانے سے انکار کردیا لیکن جب حضرت سیدنا ثابت بنائی ، حضرت سیدنا یحییٰ اوردیگر بزرگانِ دین  رحمہم اللہ تعالیٰ نے پیہم اصرار کیا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بمشکل سَتّوملا پانی پینے پر راضی ہوئے اوران لوگوں کے اِصرار پر تیسرے دن سَتّو ملا ہوا شربت پیا۔ ‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر181:                              

 تُواچانک مو ت کا ہو گا شکار

            حضرت سیدنا عبداللہ بن محمد قرشی علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں :’’ کسی شہر میں ایک بہت دولت مندنوجوان رہتا تھا ۔ اسے ہر طرح کی دنیاوی نعمتیں میسّر تھیں۔اس کے پاس ایک انتہائی حسین وجمیل لونڈی تھی جس سے وہ بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔ خوب عیش وعشرت میں اس کے لیل ونہار گزر رہے تھے ، اسے ہرطرح کی دنیاوی نعمتیں میسر تھیں لیکن وہ اولاد جیسی میٹھی نعمت سے محروم تھا،


 

 



Total Pages: 412

Go To