Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکم فرمایاتھا اس لئے میری ذمہ داری تھی کہ اس کو احسن طریقے سے سر انجام دوں۔ جب میں نے دیکھاکہ میں بہت زیادہ زخمی ہوگیاہوں تواسی احساس ذمہ داری کی وجہ سے نماز کومختصر کر دیااورآپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کوجگادیاتاکہ دشمن مزید حملہ نہ کرسکے ۔‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

            (سبحان اللہ عزوجل! قربان جا یئے! ان پاک ہستیوں کو نماز و قرآن سے کیسی محبت ولگن تھی کہ جان کی پرواہ نہ کی اور نماز میں مشغول رہے اور قرآن کی تلاوت جاری رکھی۔ اللہ عزوجل ان کے صدقے ہمیں بھی عبادت کی حقیقی لذت ،قرآن کی محبت اورحضو ر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا سچاعشق عطافرمائے ۔)

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر5:             

حضرت سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی پاکدامنی

            ایک مرتبہ رحمتِ عالم، نورِ مجسم ،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے والد محترم حضرت سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں سفر پرجارہے تھے کہ راستے میں ایک یہودی عورت ملی جو اپنے مذہب کی کتابوں کو خوب جانتی تھی اور وہ کاہنہ بھی تھی،اس کانام ’’فاطمہ بنت مُرّ ‘‘تھا،بہت زیادہ حسین وجمیل اورپارساتھی، لوگ اس سے شادی کی خواہش کرتے تھے ،حسن و خوبصورتی میں اس کابہت چرچا تھا، جب اس کی نظر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑی تو اسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیشانی میں نورِ نبوت چمکتاہوا نظرآیا،وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکے قریب آکر کہنے لگی:’’اے نوجوان! اگرتو مجھ سے ابھی مباشرت کرلے تو میں تجھے سو اونٹ دوں گی۔‘‘ یہ سن کر عفت وحیاکے پیکر حضرت سیدنا عبداللہرضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے فرمایا:’’ مجھے حرام کام میں پڑنے سے موت زیادہ عزیز ہے اورحلال کام تیرے پاس نہیں یعنی تو میرے لئے حلال نہیں پھر میں تیری خواہش کیسے پوری کر سکتا ہو ں۔‘‘

            پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  واپس گھر تشریف لائے اور حضرت سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے صحبت فرمائی۔ چند دنوں کے بعد ایک مرتبہ پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکی ملاقات اس عورت سے ہوئی، اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ انور پر نورنبوت نہ پا کر پوچھا:’’تم نے مجھ سے جدا ہونے کے بعد کیاکیا؟‘‘آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’میں اپنی زوجہ کے پاس گیااور اس سے مباشرت کی۔‘‘یہ سن کر وہ بولی:’’خدا عزوجل کی قسم! میں بدکارہ نہیں لیکن میں نے تمہارے چہرے پر نورِنبو ت دیکھا تو میں نے چاہاکہ وہ نور مجھے مل جائے مگر اللہ عزوجل کوکچھ اور ہی منظورتھااس نے جہاں چاہا اس نور کو رکھا۔جب یہ بات لوگوں کو معلوم ہوئی توانہوں نے اس عورت سے پوچھا: ’’کیا واقعی عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تجھے قبول نہ کیا ،کیاتونے اسے اپنی طرف دعو ت دی

 



Total Pages: 412

Go To