Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

تمہارے پہلو کو شجاعت وبہادری عطا فرمائے، تمہاری کمزوری کو قوت سے بدل دے ۔ تمہاری وحشت کو اُنسیَّت سے اور تمہارے خوف کو امن سے بدل دے۔ ‘‘

            پھر مجھ سے کہا:’’اے نوجوان ! نفس کی خواہشات کو تر ک کرنے کی غرض سے دنیا کو چھوڑنے والوں نے اللہ عزوجل کی رضا کو (اپنا) لباس ، اس کی محبت کواپنی چادر اور اس کی عظمت وبزرگی کو اپنا شعار بنالیا ہے ۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے ان پر ایسا فضل وانعام فرمایاکہ ایسا کسی پر نہ فرمایا۔ اتناکہنے کے بعد وہ چلا گیا۔ وہ شخص میری اس بات سے بہت متعجب ہوا۔ پھر کہنے لگا :’’ یقینا اللہ عزوجل ایسے ہدایت یافتہ لوگو ں سے ( دین اسلام کی) تبلیغ کا کام لیتا ہے ۔ اے عزیز ! ہم نے تجھے (ان باتوں سے) نفع پہنچا یا اور جو ہم نے سیکھا تھا وہ تجھے سکھادیا ۔ پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا :’’ خوب سیرہوکر کھانے کے بعد رات جاگ کر گزارنے کی طمع نہیں کی جاسکتی۔ دنیا کی محبت کے ہوتے ہوئے اللہ عزوجل سے محبت کی طمع نہیں کی جاسکتی، تقوی اور پر ہیز گاری کو ترک کرنے کے باوجود حکمت کا الہام ہونا محض خام خیالی ہے ۔

             ظلمت وتاریکی کی راہوں میں گم ہونے کے باوجود تیرے سب کام صحیح ہو جائیں یہ نہیں ہو سکتا ۔ اور جب تجھے مال سے محبت ہو توپھر تو اللہ عزوجل سے محبت کی طمع نہ کر ۔ لوگو ں پر ظلم وجفا کرنے کے با جود تمہارے دل کے نرم ہونے کا گمان نہیں کیا جاسکتا ۔ فضول کلام کرنے کے باوجود رقت قلبی ، مخلوق پر رحم نہ کرنے کے باوجود اللہ عزوجل کی رحمت اور علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی مجالس میں نہ بیٹھنے کے باوجود رشد وہدایت کی طمع محض خام خیالی ہی ہے ۔‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر156:                                

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

            حضرت سیدنا ابو صالح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدناہقل بن زیاد اوزاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دورانِ وعظ ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو ! تم اللہ عزوجل کی ان نعمتوں کا بہت شکر ادا کرو جن کی وجہ سے تم اللہ عزوجل کی بھڑکائی ہوئی اس آگ سے دور کر دیئے گئے جو دلوں تک چڑھ جاتی ہے ۔ تم ایسے گھر میں ہو جس میں تھوڑی ہی دیر ٹھہرنا ہے اورتم بہت ہی قلیل عرصہ کے لئے ان لوگوں کے نائب بن کرـآئے ہو جن کی عمر یں تم سے زیادہ تھیں ، ان کے جسم تم سے زیادہ لمبے تھے، انہوں نے پہاڑوں کو کھود کر پھاڑ ڈالا


 

 



Total Pages: 412

Go To