Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر 154:                             ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

             حضرت سیدنا شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے:’’ میں نے دو سو دینار کا ایک گھر خریدا اور ایک تحریر لکھ دی ، اور عادل لوگو ں کو (اس پر) گواہ بنایا ، اس بات کی خبر حضرت سیدنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو پہنچی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ’’اے شریح! مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو نے ایک گھر خریدا ہے اور ایک تحریر لکھی ہے اور اس پر عادل لوگوں کو گواہ بھی بنایا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی:’’ اے امیرالمؤمنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! یہ خبر حقیقت (پر مبنی)ہے ۔‘‘آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا: ’’اے شریح! جلد ہی تیرے پاس ایسا شخص آئے گا جو نہ تو تیری تحریر دیکھے گا اور نہ ہی تجھ سے تیرے گھر کے بارے میں سوال کرے گا۔ وہ تجھے اس گھر سے نکال کر تیری قبر کے حوالے کردے گا ۔ اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرے لئے یہ مضمون لکھتا:

 بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

            یہ وہ گھرہے جسے حقیر بندے نے اس شخص سے خرید ا ہے جسے کوچ کرنے ( کے حکم )کی وجہ سے پر یشان کیا گیا ہے اور مرنے والا ہے ۔ اس نے ایسا گھر لیا ہے جو دھوکے کا گھر ہے اور اس پر چار حدو د مشتمل ہیں۔

            ان میں سے پہلی حد مختلف امور کی طرف دعوت دینے والی چیزوں پر ختم ہوتی ہے ،دوسری حد مصائب وتکالیف کی طرف دعوت والی باتوں پر ، تیسری حد نفسانی خواہشات اور فضول کاموں پر اور چوتھی حدد ھوکے باز شیطان پر ختم ہوتی ہے اور اس میں اس گھر کا دروازہ شرو ع ہوتا ہے ۔

            اس دھوکا میں پڑے شخص نے ایک امید کے ساتھ اس شخص سے سارا گھر خرید لیا جو پیغامِ اجل کی وجہ سے پریشان ہے۔ اب یہ قناعت کی عزت سے نکل کر لالچ کے گھر میں داخل ہوگیا ہے لیکن گھر خرید نے والے نے کون سی بہت بڑی حاجت پوری کرلی ہے جبکہ بادشاہوں کے اجسام کا مالک، جابر لوگو ں کی جانوں کوسلب کرنے والا ، فر عونوں جیسے کسرٰی ، تبع ، حمیر اور وہ جس نے محل بنایا پھراسے پختہ و مزین کیا اور لوگو ں کو اکٹھا کر کے انہیں غلام بنالیا اور جو اپنے بیٹے کے لئے بھی اس ملکیت کا گمان رکھتا تھا اور ان کی بادشاہت کو ختم کرنے والا ان سب کو میدا نِ حشر میں جمع فرمائے گا اورجب فیصلہ سنانے کے لئے کرسی رکھی جائے گی اس وقت باطل کام کرنے والے خسارے میں ہوں گے اور منادی اس طرح ندا کرے گا:’’دوآنکھوں والے کے لئے حق کتنا واضح اور روشن ہے۔ بے شک سفر دو دن کا ہے، نیک اعمال کر کے زادِ راہ تیا رکرلو کیونکہ انتقال اور زوال کا وقت قریب آن پہنچا ہے‘‘ ۔

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷


 

 



Total Pages: 412

Go To