Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

تھاپھر جونہی میری نظر ’’خانہ کعبہ‘‘ پر پڑی تو میرے دل سے تمام اَدیان باطلہ کی محبت نکل گئی اور ’’دینِ اسلام ‘‘کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی۔مَیں نے فوراً’’عیسائیت ‘‘سے توبہ کر کے محمد رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی غلامی اِختیار کرلی اور مسلمان ہوگیا ۔اس وقت میرا دل بہت خوشی محسوس کر رہا تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد میں نے غسل کیا احرام باندھا اور دعا کی:’’ اے اللہ عزوجل! آج میری ملاقات حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہوجائے ۔‘‘ بارگاہِ خداوندی عزوجل میں میری دعا قبول ہوئی اور میں اب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی خدمت میں حاضر ہوں۔‘‘

             حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت خوش ہوئے۔ اسے خوب شفقتوں اور محبتوں سے نوازا۔پھر ہماری طرف متو جہ ہوئے اور فرمایا:’’ اے حامد ! دیکھ لو سچائی میں کتنی برکت ہے۔ اس نوجوان کو حق کی تلاش تھی اور یہ اپنی طلب میں سچا تھا لہٰذا اسے حق مل گیا یعنی یہ اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگیا ۔‘‘ پھر وہ نوجوان ہمارے ساتھ ہی رہنے لگا اور بہت بلند مرتبہ حاصل کیا ۔ بالآ خر وہ دارِ فناسے دارِ بقاء کی طرف روانہ ہوگیا ۔

 {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

حکایت نمبر152:                                      

ٹوٹی ہو ئی صراحی

             حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :’’ ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، آنکھوں سے آنسوؤں کی بر سات ہورہی تھی، بڑے درد مندانہ اَنداز میں رو رہے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک صراحی ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے جاکر سلام عرض کیا اور بیٹھ گیا ۔ مجھے دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے رونا بند کردیا۔ میں نے عرض کی:’’ حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟ آخر آپ کو ایسا کون ساغم لاحق ہوگیا ہے جس کی وجہ سے آپ اتنی گریہ و زاری کر رہے ہیں ؟‘‘

            آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے جواباً ارشاد فرمایا:’’ آج میں روزے سے تھا ، میری بیٹی یہ صراحی لے کر آئی، اس میں پانی بھرا ہوا تھا ۔اس نے مجھ سے کہا: اے میرے والد گرامی! آج گرمی بہت زیادہ ہے، مَیں یہ صراحی لے کر آئی ہوں تا کہ اس میں پانی ٹھنڈا ہو جائے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہٹھنڈے پانی سے روزہ افطار کریں۔‘‘

           


 

 



Total Pages: 412

Go To