Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

اس نوجوان کی یہ بات سن کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اٹھے اور چلتے ہوئے مجھ سے فرمایا: ’’اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔‘‘ نوجوان بھی ہمارے ساتھ ہی چلنے لگا۔ حرم شریف سے قریب ’’وادی مُرّ‘ ‘میں پہنچ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اپنے پرانے کپڑے اُتار کر دھوئے پھر وضو  کرنے کے بعد اس نوجوان سے پوچھا:’’ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’ عبدا لمسیح‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا:’’ اے عبدالمسیح! اب حرم شریف کی حد شرو ع ہونے والی ہے اور کفار کا داخلہ

حرم شریف میں حرام ہے۔

 جیسا کہ اللہ عزوجل نے اپنی آخری کتا ب قرآن کریم میں ارشا د فرمایا:

اِنَّمَاالْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوالْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَاج ( پ۱۰، تو بہ :۲۸)

 

 

 ترجمۂ کنزالایمان:مشرک نرے ناپاک ہیں تواس برس کے بعدوہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔

لہٰذا تم اب یہیں رکو اور ہر گزہرگز حرم شریف میں داخل نہ ہونا اگر تم داخل ہوئے تو ہم حُکّام سے تمہاری شکایت کر دیں گے ۔‘‘

            اِتنا کہنے کے بعد ہم نے اس نوجوان کو وہیں چھوڑ ا اور ہم مکۂ مکرمہ کی نور بار مشکبار فضاؤں میں داخل ہوگئے ۔پھر ہم میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں حاجیوں کا ہجوم تھا اچانک ہم نے اسی نوجوان کو میدانِ عرفات میں دیکھا اس نے حاجیوں کی طر ح اِحرام باندھا ہوا تھا اور بے تا بانہ نظر وں سے کسی کو تلاش کر رہا تھا جونہی اس نے ہمیں دیکھا فوراً ہمارے پاس چلا آیا اور حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشانی کو بوسہ دینے لگا۔ یہ صورتحال دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:’’ اے عبد المسیح! تم یہاں کیسے آگئے ؟‘‘ اس نوجوان نے عرض کی:’’حضور! اب میرا نام عبد المسیح نہیں بلکہ عبد اللہ ہے (یعنی اب وہ عیسائی مسلمان ہو چکا تھا)

            آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا:’’اپنا پورا واقعہ بیان کر وکہ تم کس طرح مسلمان ہوئے، تمہاری زندگی میں یہ انقلاب کیسے  آیا ؟‘‘ اس نوجوان نے عرض کی:’’ حضور! جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہمجھے چھوڑ کر آگئے تھے تو میں وہیں موجود رہا اور میرے دل میں یہ خواہش مچلنے لگی کہ آخر مَیں بھی تو دیکھوں کہ وہ مکہ مکرمہ کیسی جگہ ہے جس کی طرف مسلمان سفر و ہجر کی صعوبتیں بر داشت کر کے ہر سال حج کے لئے آتے ہیں۔آخر اس میں ایسی کیا عجیب بات ہے ۔‘‘ اسی خواہش کی بناء پر میں نے بھیس بدلا اورمسلمانوں جیسی حالت بنالی۔ میری خوش قسمتی کہ وہا ں ایک قافلہ پہنچاجو’’حرمین شریفین ‘‘ آرہا تھا ۔ میں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور ا س قافلے میں شامل ہوگیا۔

            جوں جوں ہمارا قافلہ مکہ مکرمہ سے قریب ہوتا جارہا تھا میرے دل کی دنیا بدلتی جارہی تھی۔ عجیب وغریب کیفیت کا عالم


 

 



Total Pages: 412

Go To