Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر151:                             

کعبۃاللہ شریف پر پہلی نظر

             حضرت سیدنا حامد اسودعلیہ رحمۃ اللہ الصمد ، حضرت سیدنا ابراہیم خوّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کے عقید ت مندوں میں سے تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کبھی سفر پر روانہ ہوتے تو کسی کو بھی اطلاع نہ دیتے اور نہ ہی کسی کو اپنے ساتھ سفر پر چلنے کے لئے کہتے ۔جب کبھی سفر کا اِرادہ ہوتا تو ایک بر تن اپنے ساتھ لے جاتے جو وضو اور پانی پینے کے لئے استعمال فرماتے ۔

            ایک مرتبہ اسی طر ح آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اپنا بر تن اٹھایا اور ایک سمت چل دیئے۔ میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے پیچھے ہولیا۔ہماراسفرجاری رہاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دورانِ سفر مجھ سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ ہم کوفہ پہنچ گئے ۔ وہاں ہم نے ایک دن اور ایک رات قیام کیا، پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ’قادسیہ‘‘ کی طر ف روانہ ہوئے ۔ جب ہم قادسیہ پہنچے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میری طرف متو جہ ہو کر پوچھنے لگے : ’’اے حامد !تم یہاں کیسے آئے ؟‘‘ میں نے عرض کی:’’ حضور! میں آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے ساتھ ساتھ ہی سفرکرتا آرہا ہوں۔میں سارے سفر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے ساتھ رہاہوں۔‘‘

             آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا:’’ میرا اِرادہ تو حج کرنے کا ہے، اگر اللہ عزوجل نے چاہا تو اب میں مکہ مکرمہ کی طرف جاؤں گا۔‘‘ تو میں نے عرض کی :’’حضور ! ان شاء اللہ عزوجل میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ مکہ شریف چلوں گا۔‘‘ چنانچہ ہم سوئے حرم روانہ ہوئے اور مسلسل دن رات سفر کیا۔

             ہمارا سفر اسی طرح جاری وساری تھا۔مکہ مکرمہ قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا۔اچانک ہمیں راستے میں ایک نوجوان ملا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ وہ ہمارے ساتھ ایک دن اور ایک رات سفر کرتا رہا لیکن راستے میں اس نے ایک بھی نماز نہ پڑھی۔یہ دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اس سے کہا:’’اے نوجوان !تُو کل سے ہمارے ساتھ ہے لیکن تُونے ایک بھی نماز نہ پڑھی حالانکہ نماز حج سے بھی زیادہ اَہمیت کی حامل ہے۔‘‘اس نوجوان نے جواب دیا: ’’اے شیخ! مجھ پر نماز فرض نہیں۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ’’کیا تُو مسلمان نہیں ؟ ‘‘ اس نے جواب دیا: ’’نہیں ،بلکہ میں نصرانی ہوں اورمیں اس جنگل بیابان میں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ مَیں توکُّل میں کتنا کامل ہوں او رمجھے میرے پروردگار عزوجل پر کتنا بھروسا ہے کیونکہ میرا نفس مجھ سے کہتا ہے کہ تو تو کُّلمیں بہت کامل ہے لیکن میں نے نفس کی بات پر یقین نہ کیا اور یہ تہیہ کرلیا کہ اپنے آپ کو آزماؤں گا او رکسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں میرے او رمیرے رب عزوجل کے سوا کوئی نہ ہوپھر وہاں دیکھو ں گا کہ میرے اندر کتنا توکُّلہے۔ چنانچہ میں اس جنگل بیابان میں آگیا ہوں اوراپنے آپ کو آزمارہا ہوں۔‘‘

           


 

 



Total Pages: 412

Go To