Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

مبارک پر پڑے تاکہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے مبارک شانوں کے درمیان مہرِنبوت کو دیکھ سکوں کیونکہ مجھے راہب نے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ سب کی سب میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی ذات میں دیکھ لی تھیں۔ بس آخری نشانی (یعنی مہرِ نبوت) دیکھنا باقی تھی ۔ میں بڑی بے تابی سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی طرف دیکھ رہا تھا جب نبی غیب داں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے میری یہ حالت دیکھی تو میرے دل کی بات جان لی اور میری طرف پیٹھ پھیرکر مبارک شانوں سے چادر اُتارلی جیسے ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے چادر ہٹائی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہرِ نبوت جگمگارہی تھی۔ مَیں دیوانہ وار آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی طر ف بڑھا اور مہرِ نبوت کو چُومنا شروع کردیا۔ مجھ پر رقت طاری ہوگئی ،بے اِختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ آج میری خوشی کی اِنتہاء نہ تھی جس کے روئے زیبا کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مَیں نے اِتنی مصیبتیں اور مشقتیں جھیلیں آج وہ نورِمجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّممیرے سامنے موجود تھے اور میں ان کے جلوؤں میں اپنے جسم کومنور ہوتا دیکھ رہا تھا ۔

            میں نے فوراً حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی بارگاہ میں عرض کی:’’اے میرے محبوب آقا  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیجئے اوراپنے غلاموں میں شامل فرمالیجئے ۔‘‘ پھر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلّ َ  مَیں مسلمان ہوگیا ۔میں ابھی تک حضور  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی مہرِ نبوت کو بو سے دے رہا تھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ اب بس کرو۔‘‘ چنانچہ میں ایک طرف ہٹ گیا، پھر میں نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکو اپنی ساری رُوداد سنائی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان بہت حیران ہوئے کہ میں کس طرح یہاں تک پہنچااورمَیں نے کتنی مشقتیں برداشت کیں۔

             حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے مجھ سے فرمایا:’’ اے سلمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! تم اپنے مالک سے مکاتبت کرلو( یعنی اسے رقم دے کر آزادی حاصل کرلو) جب حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مالک سے بات کی تو اس نے کہا :’’ مجھے تین سو کھجوروں کے درخت لگا دو اور چالیس اوقیہ چاندی بھی دو پھر جب یہ کھجور یں پھل دینے لگ جائیں گی تو تم میری طرف سے آزاد ہوجاؤگے ۔‘‘

             میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی بارگاہِ بیکس پنا ہ میں حاضر ہوا اور اپنے مالک کی شرطیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکو بتائیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا: ’’اپنے بھائی کی مدد کرو ۔‘‘ چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھرپور تعاون کیا، کسی نے کھجوروں کے 30پودے لاکر دیئے، کسی نے 50 ۔ الغرض !مددگار صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مدد سے میرے پاس 300کھجوروں کے پودے جمع ہوگئے ۔

           


 

 



Total Pages: 412

Go To