Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

وہ ضرور قبول فرمائے گا ۔‘‘

            چنانچہ اس شخص نے میرے سامنے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے تو بہ کی اور خوب رو رو کر معافی مانگتا رہا۔ پھر ہم بصرہ پہنچے اور دونوں نے اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے دوستی کرلی۔ چالیس سال تک ہم بھائیوں کی طرح رہے چالیس سال بعد اس مردِ صالح کا اِنتقال ہوگیا ۔مجھے اس کا بہت غم ہوا ،پھرایک رات میں نے اسے خواب میں دیکھا تو پوچھا:’’ اے میرے بھا ئی! دنیا سے جانے کے بعد تمہارا کیا ہوا تمہا را ٹھکانہ کہا ں ہے ؟‘‘ اس نے بڑی دِلربا اورشیریں آواز میں جواب دیا: ’’دنیا سے جانے کے بعد مجھے میرے رب عزوجل نے جنت میں بھیج دیا ۔‘‘

            میں نے پوچھا:’’ اے میرے بھائی !تمہیں جنت کس عمل کی وجہ سے ملی؟ ‘‘ اس نے جواب دیا :’’جب تم نے مجھے یہ آیت سنائی تھی:

 وَاِذَاالصُّحُفُ نُشِرَتْ 0    ۳۰،التکریر:۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں گے۔

تواسی آیت کی برکت سے میری زندگی میں انقلاب آگیا تھا۔اسی وجہ سے میری مغفرت ہوگئی اور مجھے جنت عطاکر دی گئی۔‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

            (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قرآنِ پاک ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ اس کو سن کر نہ جانے کتنے ایسے سیاہ دل روشن ہوگئے جو گناہو ں کے تاریک گڑھے میں گر چکے تھے ، کتنے ہی مردہ دلوں کو قرآن کریم نے جِلا بخشی ،بڑے بڑے مجرموں نے جب اسے سنا تو ان کے دل خوفِ خداوندی عزوجل سے لرز اٹھے اور وہ تمام سابقہ گناہوں سے تو بہ کر کے صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ کلام الٰہی عزوجل ایسا بابرکت کلام ہے کہ جس نے بڑے بڑے کفار کو کفر کے ظلمت کدوں سے نکال کر ایسی عظمتیں عطا کیں کہ وہ آفتا ب ِہدایت بن کر لوگو ں کے ہادی ومقتدا بن گئے او راپنے جلوؤں سے دنیا کو منور کرنے لگے اور جو اِن کے دامن سے وابستہ ہوگیا وہ بھی منور ہوگیا ۔اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اوراس کی تعلیم عام کرنے کی تو فیق عطا فرما ۔)

؎ ؎   یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہوجائے                                           ہر ایک پر چم سے اُونچا پرچمِ اسلام ہوجائے

آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷


 

 



Total Pages: 412

Go To