Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

مہمان ہوں او ر تمہارے ساتھ کھانا کھا چکاہوں ،اب میں شراب ہرگز نہیں پیوں گا ۔‘‘ اس نے کہا:’’ ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ پھر جب وہ شراب کے نشے میں مست ہوگیا تو لونڈی سے کہا :’’سارنگی (یعنی باجا) لاؤ او رہمیں گا نا سناؤ ۔‘‘ لونڈی سارنگی لے کر آئی اور اپنی پُر کشش آواز میں گانے لگی ، اس کا مالک گانے سنتا رہا اور جھومتا رہا ، لونڈی بھی سارنگی بجا تی رہی اور پُرکشش آواز سے اپنے مالک کا دل خوش کرتی رہی ۔

            یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا وہ دونوں اپنی ان رنگینیوں میں بدمست تھے اورمَیں اپنے ربعزوجل کے ذکر میں مشغول رہا۔ جب کافی دیر گزر گئی اور اس کا نشہ کچھ کم ہوا تو وہ میری طر ف متوجہ ہوا او رکہنے لگا:’’ کیاتُونے پہلے کبھی اس سے اچھاگانا سنا ہے؟ دیکھو!کتنے پیارے انداز میں اس حسینہ نے گانا گایا ہے،کیا تم بھی ایساگا سکتے ہو ؟ ‘‘ میں نے کہا :’’ میں ایک ایسا کلام آپ کو سنا سکتا ہو ں جس کے مقابلے میں یہ گانا کچھ حیثیت نہیں رکھتا ۔‘‘ اس نے حیران ہوکر کہا :’’کیا گانوں سے بہتر بھی کوئی کلام ہے؟‘‘ میں نے کہا :’’ہاں ! اس سے بہت بہتر کلام بھی ہے۔‘‘ اس نے کہا:’’ اگر تمہارا دعوی درست ہے تو سناؤ ذرا ہم بھی تو سنیں کہ گانوں سے بہتر کیا چیز ہے؟‘‘تو مَیں نے سُوْرَۃُ التَّکْوِیْر کی تلاوت شروع کردی :

 اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ0وَاِذَاالنُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ0

وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ0۳۰،التکویر:۱تا۳)

ترجمۂ کنزالایمان:جب دھوپ لپیٹی جائے اورجب تارے جھڑپڑیں اور جب پہاڑچلائے جائیں۔

            میں تلاوت کرتا جارہا تھا او راس کی حالت تبدیل ہوتی جارہی تھی۔اس کی آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہوگیا ۔بڑی توجہ وعاجزی کے ساتھ وہ کلامِ الٰہی عزوجل کو سنتا رہا ۔ایسا لگتا تھا کہ کلام ِالٰہی عزوجل کی تجلیاں اس کے سیاہ دل کو منور کر چکی ہیں اور یہ کلام تاثیر کا تیر بن کراس کے دل میں اُتر چکا ہے،اب اسے عشقِ حقیقی کی لذت سے آشنائی ہوتی جارہی تھی۔تلاوت کر تے ہوئے جب میں اس آیت مبارکہ پر پہنچا :’’وَاِذَاالصُّحُفُ نُشِرَتْ 0 ۳۰،التکریر:۱۰)ترجمۂ کنز الایمان:اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں گے۔‘‘تو اس نے اپنی لونڈی سے کہا:’’جا !میں نے تجھے اللہ عزوجل کی خاطر آزاد کیا ۔‘‘پھر اس نے اپنے سامنے رکھے ہوئے شراب کے سارے برتن سمندر میں انڈیل دئیے۔ سارنگی ، باجا اور آلات لہو ولعب سب تو ڑ ڈالے پھر وہ بڑے مؤ دبانہ اَنداز میں میرے قریب آیا اور مجھے سینے سے لگا کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگا او رپوچھنے لگا:’’اے میرے بھائی! مَیں بہت گناہگار ہوں ، مَیں نے ساری زندگی گناہوں میں گزاردی اگر میں اب توبہ کرو ں تو کیا اللہ عزوجل میری تو بہ قبول فرمالے گا ؟‘‘

             مَیں نے اسے بڑی محبت دی اور کہا:’’ بے شک اللہ عزوجل تو بہ کرنے والوں اور پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے ،وہ تو تو بہ کرنے والوں سے بہت خوش ہوتا ہے، اللہ عز وجل کی بارگاہ سے کوئی مایوس نہیں لوٹتا، تم اس سے تو بہ کرو


 

 



Total Pages: 412

Go To