Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حضرت سیدنا ابو تر اب نخشی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :جب ہم سب دوست مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا :’’کیا تمہیں دورانِ سفر کوئی عجیب وغریب واقعہ پیش آیا ؟‘‘ انہوں نے جواب دیا:’’ جی ہاں !ہمیں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔‘‘پھرانہوں نے پرندے اور ہر ن والا واقعہ سنایا۔ ان سے یہ واقعہ سننے کے بعد میں نے کہا:’’ فلاں دن فلاں وقت میں سوئے حرم سفر پر رواں دواں تھا کہ اچانک ایک پرندہ آیا اور میرے سامنے بھنے ہوئے ہر ن کا چوتھائی حصہ ڈال کروہاں سے غائب ہوگیا ، دیکھو! ہمارے پاک پروردگار عزوجل نے ہمیں کس طر ح ایک ہی وقت میں ایک ہی ہرن کا گو شت کھلایا۔ ‘‘

            (اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں حلال رزق عطا فرما اور حرام چیزوں سے ہماری حفاظت فرمااور ہمیں تو کُّل کی دولت سے مالا مال فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

حکایت نمبر145:                                

 اللہ عزوجل کا ہرولی زندہ ہے

            حضرت سیدنا احمد بن منصور علیہ رحمۃ اللہ الغفور فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اُستاذ حضرت سیدنا ابو یعقوب السوسی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ میرا ایک شاگرد میرے پاس مکہ مکرمہ آیا اور کہنے لگا:’’ اے اُستادِ محترم !کل ظہر کی نماز کے بعد میں اپنے خالق حقیقی عزوجل سے جاملوں گا ۔ آپ یہ چند درہم لے لیجئے، ان سے گورکن (یعنی قبرکھودنے والے) کی اُجرت ادا کردینا اور بقیہ درہموں کی خوشبو منگوالینا اور مجھے میرے انہیں کپڑو ں میں دفن کر دینا، یہ بالکل پاک وصاف ہیں۔‘‘ اس کی یہ باتیں سن کر میں سمجھاکہ شایدبھوک کی و جہ سے اس کی یہ حالت ہوگئی ۔مجھے اس کی با توں پر تعجب بھی ہو رہا تھا بہر حال میں نے اس پرتوجہ رکھی ۔دو سرے دن جب نمازِ ظہر کا وقت ہوا تواس نے نماز ادا کی اورخانہ کعبہ کو دیکھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین پر گر پڑا۔ مَیں دوڑ کر اس کے قریب گیا اور اسے ہلا جُلا کر دیکھا تو اس کا جسم بے جان ہوچکا تھا اور خانہ کعبہ کا جلوہ دیکھتے دیکھتے اس کی رُوح قَفَسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔

            یہ صورت حال دیکھ کر میں نے دل میں کہا:’’ میرا پر وردگار عزوجل بڑا بے نیاز ہے، جسے چاہے جو مقام عطا فرمائے ،اس کی حکمتیں وہی جانے ،وہ جسے چاہے اپنی معرفت عطا کرے۔ وہ ذات پاک ہے جس نے میرے شاگر د کو اِتنا مرتبہ عطا فرمایاکہ موت سے پہلے ہی اسے حقیقت سے آگا ہی عطا فرمادی اور مَیں ایسی باتیں نہیں جانتا حالانکہ میں اس کا اُستا د ہوں۔ یہ اس کی نعمتیں ہیں جسے چاہے عطا کرے ۔‘‘

           

 



Total Pages: 412

Go To