Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر131:                                 

جرأت مندچیف جسٹس

            حضرت سیدنا نمیر مدنی علیہ رحمۃ اللہ الولی سے مروی ہے، خلیفہ منصور جب مدینہ منورہ میں آیا تو اس وقت حضرت سیدنا محمد بن عمران طلحی علیہ رحمۃ اللہ القوی مدینہ منورہ میں عہدہ قضاء پر فائز تھے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت عادل و جرأت مند قاضی تھے۔ حق دار کو اس کا حق دلواتے اگر چہ مدِمقابل کتنا ہی اثر و رُسوخ والا ہو آپ اس معاملے میں بالکل رعایت نہ کرتے۔

             میں ان کا کا تب تھا۔جب خلیفہ منصور مدینہ منورہ میں حاضر ہو ا توکچھ لوگو ں نے خلیفہ کے خلاف قاضی کی عدالت میں  دعوی کیا: ’’ہمارے اونٹ ناجائز طریقے سے خلیفہ نے چھین لئے ہیں لہٰذا ہمیں انصاف دلایا جائے ۔‘‘ ان غریب لوگوں کی فریاد سن کر حضرت سیدنا محمد بن عمران طلحی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے مجھے حکم فرمایا: اے نمیر(علیہ رحمۃ اللہ القدیر)! فوراََخلیفہ کی جانب پیغام لکھو: ’’چند لوگوں نے آپ کے خلاف دعوی کیا ہے اور وہ انصاف چاہتے ہیں لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ فورا ًتشریف لائیں تا کہ فریقین کی موجود گی میں شرعی فیصلہ کیا جاسکے ۔‘‘

            حضرت سیدنا نمیر علیہ رحمۃاللہ القدیر فرماتے ہیں کہ میں نے قاضی صاحب سے عرض کی:’’ حضور! مجھے اس معاملہ سے دور ہی رکھیں ، خلیفہ میری لکھائی کو پہچا نتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی مشکل میں پھنس جاؤں۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ’’اے نمیر(علیہ رحمۃ اللہ القدیر)!یہ پیغام تم ہی لکھو گے اور تم ہی اسے لے کر خلیفہ کے پاس جاؤ گے ، جلدی کر و اور پیغام لکھو۔‘‘ میں نے جب آپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کی یہ با ت سنی تو پیغام لکھا اس پر مہر لگائی۔ آپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نے فرمایا: ’’اب جلدی سے یہ خط لے کر خلیفہ کے پاس  جاؤ۔‘‘ چنانچہ مجھے  مجبوراًجاناہی پڑا۔ میں سیدھا خلیفہ منصور کے مشیر خاص ربیع کے پاس گیااور اسے صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد کہا: ’’آپ یہ پیغام خلیفہ تک پہنچا دیں ،مجھ میں اتنی ہمت نہیں۔‘‘ ربیع نے کہا :’’ تم خود ہی جاکر خلیفہ کو قاضی کا خط دو ۔‘‘

            لہٰذا چار وناچارمجھے ہی خلیفہ کے پاس جاناپڑامیں نے جا کر اسے قاضی صاحب کا خط دے دیا اور فوراََ واپس چلا آیا۔ حضرت سیدنا محمد بن عمران طلحی علیہ رحمۃاللہ القوی عدالت میں بیٹھے تھے اور لوگو ں کے مسائل حل فرما رہے تھے ۔وہاں مدینہ منورہ کے بڑے بڑے علماء کرا م ر حمہم اللہ تعالیٰ ،اُمراء اور دیگر لوگ کافی تعدا د میں موجود تھے ۔ اتنی ہی دیر میں خلیفہ منصور کا مشیر خاص ربیع کمرہ عدالت میں آیا اور اس نے خلیفہ منصور کا پیغام سنایا:

            اے لوگو! خلیفہ نے آپ سب کو سلام بھیجا ہے او رکہا ہے کہ مجھے بطورِ مدعا علیہ (یعنی جس پر دعوی کیا جائے) عدالت میں طلب کیا گیاہے لہٰذا مجھ پرعدالت میں حاضر ہونالازم ہے۔ تمام لوگو ں کو تا کید ہے کہ جب میں آؤں تو کوئی بھی میری تعظیم کے لئے کھڑا نہ ہو اور نہ ہی کو ئی سلام کرنے کے لئے میری طرف بڑھے ۔

           

 



Total Pages: 412

Go To