Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

حکایت نمبر1 : 

اے کاش! مجھے عمیررضی اللہ تعا لیٰ عنہ جیسے گورنر مل جا ئیں

            حضرت سیدنا عمیر بن سعد الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ حضرت سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے انہیں حَمص کاگورنر بناکر بھیجا۔ایک سال گزر گیالیکن ان کی کوئی خبر نہ آئی۔ چنانچہ حضرت سید ناعمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کاتب کو بلایااورفرمایا:’’ عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف خط لکھو کہ جیسے ہی تمہیں میر ایہ خط ملے فوراً میرے پاس چلے آؤ، مالِ غنیمت و خَراج وغیرہ بھی ساتھ لیتے آنا۔‘‘جب حضرت سیدنا عمیر بن سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر المؤمنینرضی اللہ تعالیٰ عنہکا پیغام ملا تو آپ نے اپنا تھیلا اٹھایا،اس میں زادِ راہ اور ایک پیالہ رکھا، پانی کا برتن لیا پھر اپنی لاٹھی اٹھاکر پیدل ہی سفر کرتے ہوئے مدینہ منوّرہ پہنچ گئے۔ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوئے کہ آپ کاچہرہ گرد آلود اوررنگ متغیر ہو چکا تھا اور طویل سفر کے آثار چہرے پر ظاہر تھے۔ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہنے حاضر ہوتے ہی اَلسَّلَامُ عَلَیکُمْ یَااَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْن وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗکہا۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہنے سلام کا جواب دیااورپوچھا:’’اے عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تمہارا کیا حال ہے؟‘‘ حضرت سیدنا عمیررضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے عرض کی:’’ میراوہی حال ہے جو آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہدیکھ رہے ہیں ، کیاآپ نہیں دیکھ رہے کہ میں صحیح وسالم ہوں اور دنیا میرے ساتھ ہے جسے میں کھینچ رہا ہوں۔

            حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہنے پوچھا:’’تم کیاکچھ لے کر آئے ہو؟‘‘ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کاگما ن تھا کہ شایدحضرت عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ مالِ غنیمت وغیرہ لائے ہوں گے، حضرت سیدنا عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہنے عرض کی:’’ میرے پاس میراتھیلاہے جس میں اپنازادِراہ رکھتاہوں ، ایک پیالہ ہے جس میں کھاناکھاتاہوں اور اسی سے اپناسر اور کپڑے وغیرہ دھوتاہوں ،ایک پانی کا برتن ہے جس میں پانی پیتاہوں اور وضو وغیرہ کرتاہوں اورایک لاٹھی ہے جس پر ٹیک لگاتاہوں اور اگر کوئی دشمن آ جائے تو اسی لاٹھی سے اس کامقابلہ کرتاہوں ، خدا عزوجل کی قسم!اس کے علاوہ میرے پاس دنیاوی مال ومتاع نہیں۔‘‘حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا:’’اے عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیاتم پیدل آئے ہو ؟‘‘انہوں نے عرض کی:’’جی ہاں۔‘‘آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہنے پوچھا: ’’کیا مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھاجو تمہیں سواری دیتاتاکہ تم اس پر سوار ہوکرآتے ؟‘‘آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہنے عرض کی :’’نہیں ، ان میں سے کسی نے مجھے کہا نہ ہی میں نے کسی سے سوال کیا۔‘‘حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہنے فرمایا:’’وہ کتنے برُ ے لوگ ہیں جن کے پاس سے تم آئے ہو ۔ حضرت سیدنا عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :’’اے عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ ! انہیں برانہ کہئے ،میں ان لوگوں کو صبح کی نمازپڑھتے چھوڑ کر آیاہوں ، وہ اللہ عزوجل کی عبادت کرنے والے ہیں۔‘‘ حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:


 

 



Total Pages: 412

Go To