Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

آج حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ تو پیش نہیں آیا لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزوجل مجھے ہر مرتبہ خیر ہی کی خبر ملتی۔اسی طرح ایک سال امن وامان سے گزر گیا وہ حاکم ایک سال وہاں رہا لیکن وہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بال بھی بیکانہ کر سکا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعابارگاہ ِخداوندی عزوجل میں مقبول ہوئی او رآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا ذکر اس حاکم کو بُھلادیا گیا ۔ایک سال بعد وہ حاکم معزول کردیا گیا اور اسے کسی اور جگہ کا حاکم بنادیا گیا ایک دن ا س حاکم نے اپنے غلام سے کہا:’’تیرا ناس ہو ! مَیں نے علی بن حسین ،قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ کے سامنے تین مرتبہ قسم کھائی تھی کہ میں سعید بن مسیب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کو قتل کرو ں گا لیکن جب تک میں مدینہ منورہ میں رہا مجھے سعید بن مسیب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کا خیال تک نہ آیا، نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا ۔اب میں تو ان حضرات کے سامنے رُسوا ہو کر رہ گیا کہ میں اپنی قسم کو پورا نہ کرسکا ۔‘‘

             اس غلام نے کہا:’’ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں کچھ عرض کرو ں ؟ ‘‘ حاکم نے کہا:’’ تمہیں اجازت ہے جو کہنا چاہو بے د ھڑک کہو۔‘‘ غلام نے کہا: ’’حضور ! اللہ عزوجل نے آپ سے حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذکر کو بھلا دیا ور آپ کو ان کے قتل کے گناہ میں ملوث نہ ہونے دیا۔ یہ تو آپ کے حق میں اللہ عزوجل نے بہت بہتر فیصلہ فرمایا ہے ،ورنہ ( قتلِ ناحق کا) جو اِرادہ آپ نے کیا تھا اس میں سر اسر آپ کا نقصان تھا ۔اللہ عزوجل کا فیصلہ آپ کے حق میں یقینا بہتر ہے ۔‘‘ غلام کی یہ بات سن کر حاکم نے کہا:’’ اے غلام! جاؤ تم اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر آزاد ہو ۔‘‘

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

حکایت نمبر123:                                       

خبیث جن

             حضرت ابو اسحاق محمد بن رشیدمعتصم باللہ سے مروی ہے:’’بحری جہاز سمند ر کے سینے کو چیر تا قدرت الٰہی عزوجل کا مظاہر ہ کرتا ہوا جانبِ منزل جھومتا چلا جارہا تھا۔ اس جہاز میں ایک شخص کے پاس دس ہزار سونے کی اشرفیاں تھیں۔بحری جہاز کے مسافر اپنی منزل کی طرف گا مزن تھے۔ اچانک کسی کہنے والے نے کہا:’’میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص اسے کیسی ہی بڑی مصیبت میں پڑھے اللہ عزوجل اس مصیبت کو اس پاکیزہ کلمہ کی برکت سے دور فرمادے گا،کیا کوئی شخص مجھ سے یہ کلمہ سیکھنا چاہتا ہے؟ جو شخص سونے کی دس ہزار اشرفیاں خرچ کر ے گا میں اسے یہ پاکیزہ کلمہ سکھاؤں گا۔جس کے پاس دس ہزار سونے کی اشرفیاں تھیں اس نے سن کر کہا: مَیں یہ عمل آپ سے سیکھنا چاہتا ہوں۔ کہنے والے نے کہا:’’اپنی ساری رقم سمندر میں ڈال دو۔‘‘

           


 

 



Total Pages: 412

Go To