Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

دیئے بغیرمیری یہ حسرت پوری نہیں ہو سکتی تو اس نے مطلوبہ رقم حاصل کرنے کے لئے دن رات مزدوری کی۔ کافی تگ ودو کے بعد جب 100دینار جمع ہو گئے تو وہ اس بد کار عورت کے پاس پہنچا اور کہا: ’’اے حسن وجمال کی پیکر!مَیں پہلی ہی نظر میں تیرا دیوانہ ہوگیا تھا، تیرا قُرب حاصل کرنے کے لئے میں نے مزدو ری کی اور اب سودینار لے کر تیرے پاس آیا ہوں۔‘‘

             یہ سن کر اس فاحشہ عورت نے کہا: ’’اندر آجاؤ۔‘‘ جب وہ عا بد کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ حسین وجمیل عورت سونے کے تخت پر بیٹھی ہے۔اس نے عا بد سے کہا:’’میرے قریب آؤ اور اپنی دیرینہ خواہش پوری کر لو ،مَیں حاضر ہو ں ،آؤ!  میرے قریب آؤ۔‘‘وہ عا بد بے تا ب ہو کر اس کی طر ف بڑھا اور اس کے قریب تخت پر جا بیٹھا۔ جب وہ دونوں بد کاری کے لئے بالکل تیار ہوگئے تو اس عابد کی سابقہ عبادت اس کے کام آگئی اور اسے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضری کا دن یاد آگیا۔ بس یہ خیال آنا تھا کہ اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی ، اس کی شہوت ختم ہوگئی اور اسے اپنے اس فعلِ بد کے ارادے پر بڑی شرمندگی ہوئی۔ اس نے عورت سے کہا: ’’مجھے جانے دو اور یہ سو دینار بھی تم اپنے پاس رکھو، مَیں اس گناہ سے با ز آیا۔‘‘اس عورت نے حیران ہوکر پوچھا: ’’ آخر تمہیں کیا ہوا؟ تم تو کہہ رہے تھے کہ تمہارا حسن وجمال دیکھ کر میں دیوانہ ہوگیاہوں اور میرا قُرب حاصل کرنے کے لئے تم نے بہت جتن کئے، اب جبکہ تم میرے قُرب میں ہو او رمیں نے اپنے آپ کو تمہارے حوالے کردیا ہے تواب تم مجھ سے دو ر بھاگ رہے ہو، آخر کیا چیزتمہیں میرے قُرب سے مانع ہے ؟ ‘‘

            یہ سن کر اس عابد نے کہا:’’ مجھے اپنے رب عزوجل سے ڈر لگ رہا ہے اور اس کا خوف تیری طر ف مائل نہیں ہونے دے رہا، مجھے اس دن کا خوف دامن گیر ہے جب میں اپنے پر وردگار عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہو ں گا، اگر مَیں نے یہ گناہ کرلیا تو کل بروزِ قیامت اللہ عزوجل کی ناراضگی کا سامنا کس طر ح کرسکوں گا، لہٰذا اب میرا دل تجھ سے اُچاٹ ہو چکا ہے، مجھے یہاں سے جانے دو ۔‘‘

             عا بد کی یہ باتیں سن کر فاحشہ عورت بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی: ’’اگر تم اپنی اس گفتگو میں سچے ہو تو مَیں بھی پختہ ارادہ کر تی ہو ں کہ تمہارے علاوہ کوئی اور میرا شوہر ہر گز نہیں بن سکتا، مَیں تم ہی سے شادی کروں گی۔‘‘ عابد کہنے لگا :’’ تم مجھے چھوڑ دو مجھے بہت گھبراہٹ ہورہی ہے ۔‘‘ عورت نے کہا: ’’اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو مَیں تمہیں چھوڑ دیتی ہوں۔‘‘عا بد نے کہا :’’ جب تک میں یہاں سے چلا نہ جاؤں اس وقت تک میں شادی کے لئے تیار نہیں۔‘‘ عورت نے کہا: ’’اچھا! ابھی تم چلے جاؤ لیکن میں تمہارے پاس آؤں گی اور تم ہی سے شادی کرو ں گی ۔‘‘ پھر وہ عابد سر پر کپڑا ڈالے منہ چھپائے شرمندہ شرمندہ وہاں سے نکلا اور اپنے شہر کی طرف روانہ ہوگیا۔

           


 

 



Total Pages: 412

Go To