Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

ایک مرتبہ میرے ایک مزدور نے مجھے خبر دی کہ فلاں مسافر خانے میں ایک شخص مرگیا ہے، وہاں اس کا کوئی بھی وارث نہیں ، اب اس کی لاش بے گور وکفن پڑی ہے۔‘‘ جب میں نے یہ سنا تو میں مسافر خانے پہنچا، وہاں میں نے ایک شخص کو مردہ حالت میں پایا،اس کے پیٹ پر کچی اینٹیں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے ایک چادر اس پر ڈال دی، اس کے پاس اس کے کچھ ساتھی بھی تھے ۔ انہوں نے مجھے بتایا:’’ یہ شخص بہت عبادت گزار اور نیک تھا لیکن آج اسے کفن بھی میسر نہیں اور  ہمارے پاس اِتنی رقم بھی نہیں کہ اس کی تجہیز و تکفین کر سکیں۔‘‘ جب میں نے یہ سنا تواُجرت دے کر ایک شخص کو کفن لینے کے لئے اورایک کو قبر کھودنے کے لئے بھیجا اور ہم اس کے لئے کچی اِینٹیں تیار کرنے لگے پھر میں نے پانی گرم کیا تاکہ اسے غسل دیں۔ ابھی ہم لوگ انہیں کا موں میں مشغول تھے کہ یکایک وہ مردہ اُٹھ بیٹھا، اینٹیں اس کے پیٹ سے گر گئیں پھروہ بڑی بھیانک آواز میں چیخنے لگا:ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی! ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی! جب اس کے ساتھیوں نے یہ خوفناک منظر دیکھا تو وہ وہاں سے بھاگ گئے۔ میں اس کے قریب گیااور اس کا بازو پکڑ کر ہلایا۔ پھر اس سے پوچھا: ’’تُو کون ہے اور تیرا کیا معاملہ ہے؟ ‘‘

             وہ کہنے لگا:’’ میں کوفہ کارہائشی تھا اور بد قسمتی سے مجھے ایسے برے لوگوں کی صحبت ملی جو حضرات سیدنا صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دیا کرتے تھے ۔ان کی صحبت ِبد  کی وجہ سے میں بھی ان کے ساتھ مل کر شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دیاکرتا او ران سے نفرت کرتا تھا ۔

            سیدنا ابوالخصیب علیہ رحمۃ اللہ اللطیففرماتے ہیں ، میں نے اس کی یہ بات سن کر اِستغفار پڑھا اور کہا:’’ اے بد بخت !پھر تو تجھے سخت سزا ملنی چا ہئے اور تُومرنے کے بعد زندہ کیسے ہوگیا ؟‘‘ تو اُس نے جواب دیا: ’’میرے نیک اعمال نے مجھے کوئی فائدہ نہ دیا۔ صحابہ کرام  علیہم الرضوان کی گستاخی کی وجہ سے مجھے مرنے کے بعد گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایاگیا اور وہاں مجھے میرا ٹھکانا دکھایا گیا،وہاں کی آگ بہت بھڑک رہی تھی۔

            پھر مجھ سے کہا گیا : ’’عنقریب تجھے دو بارہ زندہ کیا جائے گا تا کہ تُو اپنے بد عقیدہ ساتھیوں کو اپنے درد ناک انجام کی خبر دے اور انہیں بتائے کہ جو کوئی اللہ عزوجل کے نیک بندوں سے دشمنی رکھتا ہے اس کا آخرت میں کیسا درد ناک انجام ہوتا ہے ، جب تُو ان کو اپنے بارے میں بتا دے گا توپھر دو بارہ تجھے تیرے اصلی ٹھکا نے (یعنی جہنم ) میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘

             یہ خبر دینے کے لئے مجھے دوبارہ زندہ کیا گیا ہے تا کہ میری اس حالت سے گستاخانِ صحابہ عبرت حاصل کریں اور اپنی گستا خیوں سے باز آجائیں ورنہ جو کوئی ان حضرات کی شان میں گستاخی کرے گا اس کا انجام بھی میری طر ح ہوگا۔‘‘                     اِتناکہنے کے بعد وہ شخص دوبارہ مردہ حالت میں ہوگیا ۔میں نے بھی اوردیگر لوگو ں نے بھی اس کی یہ عبرت ناک باتیں


 

 



Total Pages: 412

Go To