Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

میراوہ سیدزادہ دوست جیسے ہی اپنے گھرپہنچاتواس کے پاس میراوہی تاجردوست آیااوراس سے کہا:’’میں ان دنوں بہت تنگ دستی کاشکارہوں ،مجھے کچھ رقم اُدھاردے دو۔‘‘یہ سن کراُس سیدزادے نے وہ رقم کی تھیلی میرے اس تا جردوست کودے دی جو میں اسی(تاجر)سے لے کرآیاتھا،جب میرے اس تاجردوست نے وہ رقم کی تھیلی دیکھی توفوراًپہچان گیااورمیرے پاس آکرپوچھنے لگا:’’جورقم تم مجھ سے لے کرآئے ہو،وہ کہاں ہے؟‘‘میں نے اسے تمام واقعہ بتایاتووہ کہنے لگا:’’اِتِّفاق سے وہی سیدزادہ میرابھی دوست ہے،میرے پاس صرف یہی بارہ سودرہم تھے جومیں نے آپ کودے دیئے،آپ نے اس سیدزادے کودیئے اوراس نے وہ مجھے دے دیئے اس طرح ہم میں سے ہرایک نے اپنے آپ پردوسرے کوترجیح دی اوردوسرے کی خوشی کی خاطراپنی خوشی قربان کردی۔‘‘

            ہمارے اس واقعے کی خبر کسی طر ح حاکمِ وقت یحییٰ بن خالد بر مکی کوپہنچ گئی، اس نے فوراً اپنا قاصد بھیجا جس نے میرے پاس آکر یحییٰ بن خالد بر مکی کا پیغام دیا: ’’مَیں اپنی کچھ مصروفیات کی بناء پر آپ کی طرف سے غافل رہااور مجھے آپ کے حالات کے بارے میں پتہ نہ چل سکا، اب میں غلام کے ہاتھ دس ہزار دیناربھیج رہا ہوں ـ، ان میں سے دو ہزار آپ کے لئے،دو ہزار آپ کے تا جر دوست کے لئے اور دوہزار اس سید زادے کے لئے باقی چار ہزار دینا ر تمہاری عظیم وسعادت مند بیوی کے لئے کیونکہ وہ تم سب سے زیادہ غنی،افضل اور عشق رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پیکر ہے ۔‘‘

 {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

            (اے ہمارے پر وردگارعزوجل!ہمیں بھی ان پاکیزہ او رنیک سیرت لوگوں کے صدقے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خوب خیر خواہی کرنے کاجذبہ عطا فرمااور مل جل کر دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر93:                                                سفید محل

            حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دس افراد پر مشتمل ایک قافلہ یمن کی جانب روانہ فرمایا۔ مَیں بھی اس قافلے میں شریک تھا، قافلہ جانبِ منزل رواں دواں تھا، دورانِ سفر ہمارا قافلہ ایک ایسی بستی کے قریب سے گزرا جسے دیکھ کر ہمیں بہت زیادہ حیرت ہوئی ۔ اس بستی میں بہترین قسم کی عمارتیں تھیں ، ہمارے رفقاء نے کہا : ’’کیا ہی اچھا ہواگر ہم اس بستی میں داخل ہوجائیں اور یہاں کے حالات معلوم کریں۔‘‘

            چنانچہ ہمارا قافلہ اس خوبصورت بستی میں داخل ہوا ، اس کی خوبصورتی دیکھ کر ہماری حیرا نگی اِنتہاء کو پہنچ چکی تھی، ایسا



Total Pages: 412

Go To