Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

             لیکن اس نیک شخص نے کوئی بے صبری والے جملے زبان سے نہ نکالے بلکہ کہا کہ اس گدھے کے مرجانے ہی میں ہماری عافیت ہوگی، پھر کچھ عرصہ کے بعد کُتے کو بھی بیماری نے آلیا اور وہ بھی مرگیا ،لیکن اس صابر و شاکر شخص نے پھر بھی بے صبر ی اور ناشکری کا مظاہر ہ نہ کیا بلکہ وہی الفاظ دہرائے کہ ہمارے لئے اس کے ہلاک ہوجانے میں ہی عافیت ہوگی۔

             وقت گزرتا رہا کچھ دنوں کے بعد دشمنوں نے رات کو اس جنگل کی آبادی پر حملہ کیا اور ان تمام لوگو ں کو پکڑ کر لے گئے جو اس جنگل میں رہتے تھے ان سب کی قید کا سبب یہ بنا کہ ان کے پاس جانور وغیرہ موجود تھے جن کی آواز سن کر دشمن متوجہ ہوگیا اور دشمنوں نے جانوروں کی آواز سے ان کی رہائش کی جگہ معلوم کرلی پھر ان سب کو ان کے مال واَسباب سمیت قیدکر کے لے گئے۔

            لیکن وہ نیک شخص اور اس کا ساز وسامان سب بالکل محفو ظ رہا کیونکہ اس کے پاس کوئی جانور ہی نہ تھا جس کی آواز سن کر دشمن اس کے گھر کی طر ف آتے ۔اب اس نیک مرد کا یقین اس بات پر مزید پختہ ہوگیا کہ اللہ عزوجل  کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے ۔‘‘    {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

               

(میٹھے اسلامی بھائیو!اس مرد کامل کا اس بات پر پختہ یقین تھاکہ اللہ عزوجل جب بھی ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اس میں ہمارا  ہی فائدہ اورہماری ہی بھلائی پیشِ نظر ہوتی ہے اگر چہ بظاہر نظر نہ بھی آئے )

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر87:                                          جستجوبڑھتی گئی

            حضرت سیدنا محمد بن عبید زاہد علیہ رحمۃ اللہ الواحد فرماتے ہیں :’’ میرے پاس ایک لونڈی تھی جسے میں نے بیچ دیا ،بعد میں خیال آیا کہ اس لونڈی کو نہیں بیچنا چاہیئے تھا وہ میرے پاس ہی رہتی تو بہتر تھا ،اسے دو بارہ حاصل کرنے کی مجھے بہت زیادہ جستجو ہوئی لہٰذا میں لونڈی کے نئے مالک کے پاس پہنچااور اس سے کہا:’’تم یہ لونڈی مجھے واپس دے دو اور ادا کردہ قیمت کے علاوہ بیس دینار مزید لے لو، وہ اس بات پر راضی نہ ہوا چنانچہ میں وہاں سے واپس آگیا ، لیکن اس لونڈی کو واپس لینے کی خواہش مزید بڑھنے لگی میں نے اپنے آپ کو بہت سمجھا یا مگر بے سود ، ساری را ت اسی پر یشانی میں جاگتے ہو ئے گزاردی ، لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہ ہوا ،

            اس لونڈی کا نیا مالک لونڈی کو لے کر مدائن چلاگیا ، اسے یہ خوف تھا کہ کہیں میں اس سے دشمنی نہ کرلوں اور زبر دستی اس سے لونڈی نہ چھین لوں ، جب مجھے یہ اطلاع ملی تو میں مزید بے قرار ہوگیا ، بالآخر میں نے اسی لونڈی کانام اپنے صحن کی دیوار



Total Pages: 412

Go To