Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

میں صبح اس حالت میں کرتا ہوں کہ میرے پاس دنیاوی اشیاء میں سے کوئی شے نہیں ہوتی اور ایسی ہی حالت میں شام کرتا ہوں کہ میرے پاس کوئی دنیاوی شے نہیں ہوتی لیکن پھر بھی میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ فلاں شخص اتنا مال دار ہے۔ میں اپنی اس حالت میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت اور بہت زیادہ غنی سمجھتا ہوں (یعنی میں اس حال میں بھی اپنے رب عزوجل کی رضا پر راضی ہوں )۔‘‘

            آپ علیہ السلام کے بارے میں یہ بھی بیان کیا جاتاہے کہ آپ علیہ السلام دنیاسے بہت زیادہ بے رغبت تھے، کبھی بھی دنیوی نعمتوں کو خاطر میں نہ لاتے ، آپ علیہ السلام نے ایک ہی اُون کے جبہ میں اپنی زندگی کے دس سال گزار دیئے، جب وہ جبہ کہیں سے پھٹ جاتا تو اسے رسّی سے باندھ لیتے یا پیوند لگا لیتے، آپ علیہ السلام نے چار سال تک اپنے مبارک بالوں میں تیل نہ لگایا، پھر چار سال بعدچربی کی چکنائی بالوں میں لگائی اور چربی کو تیل کی جگہ استعمال فرمایا۔

            آپ علیہ السلام نے اللہ عزوجل پر بھروسہ کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’اے بنی اسرائیل! مساجد کو لازم پکڑلو ، اور انہی میں پڑے رہو، تمہارے اصلی گھر تو تمہاری قبریں ہیں ، دنیا میں تو تم ایک مہمان کی حیثیت سے ہو، عنقریب یہاں سے اپنے اصلی گھر(یعنی قبر) کی طرف چلے جاؤ گے ۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ پرندے آسمان کی طرف پر واز کرتے ہیں ، نہ تو وہ کھیتی اگاتے ہیں ، نہ ہی فصل کا ٹتے ہیں لیکن پھر بھی تمام جہانوں کا پروردگار عزوجل انہیں رزق عطا فرماتا ہے۔ اے لوگو ! جَو کی روٹی کھاکر بسر اوقات کرو ، اور زمین کے نباتا ت اور سبزی وغیرہ کھاکر پیٹ بھرلیا کرو۔ اگر تم اتنی ہی دنیا پر قناعت کر لوتب بھی تم اللہ عزوجل کی نعمتوں کا شکر ادانہیں کرسکتے اور اگر تم کثیر نعمتوں کے طلبگار بنو گے اور ان سے فائدہ اٹھاؤ گے تو پھر کس طرح ان نعمتوں کا شکر ادا کرو گے ۔‘‘

            ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا:’’ اگر تم چاہتے ہوکہ میں تمہیں اپنا دوست اوررفیق رکھوں تو تم دنیا داروں سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرلو، مالداروں سے بالکل جدا رہو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر میں تمہیں اپنے ساتھ نہ رکھوں گااور تمہارارفیق بھی نہ بنوں گا۔بے شک تمہیں اپنے مقصد میں کامیابی اسی وقت ہوگی جب تم اپنی خواہشات کو ترک کردو گے ، تم اس وقت تک اپنی پسندیدہ چیز کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک تم ناپسندیدہ چیزوں پرصبر نہ کرو،اور خبردار! بدنگاہی سے ہمیشہ بچتے رہنا کیونکہ بد نگاہی کی وجہ سے دل میں شہوت ابھرتی ہے۔

            خوشخبری ہے اس عظیم شخص کے لئے جس کی نظر اپنے دل پر ہوتی ہے،وہ سوچ سمجھ کر نظر اٹھاتا ہے اور اپنے دل کو نظر کے تا بع نہیں کرتابلکہ نظر کو دل کے تابع رکھتا ہے۔ افسوس ہے اس شخص پر جو دنیا کے لئے اتنی مشقتیں بر داشت کرتاہے حالانکہ یہ بے وفا دنیا اسے چھوڑ کر چلی جائے گی اور موت اسے دنیا سے جدا کردے گی،کتنا بے وقوف ہے وہ شخص جو دنیا کی فکر میں سر گرداں ہے


 

 



Total Pages: 412

Go To