Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

آپ   رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسی طرف چلنے لگے ۔راستے میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیٹے کو ٹھوکر لگی اور اس کے پاؤں میں ایک ہڈی اس طرح گھسی کہ وہ پاؤں کے تلوے سے پار ہوکر ظاہر قدم تک نکل آئی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کابیٹادرد کی شدت سے بے ہوش ہو کر زمین پر گرپڑاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اسے اپنے سینے سے چمٹا لیا،پھر اپنے دانتوں سے ہڈّی نکالنے لگے۔ کافی مشقت کے بعد بالآخر وہ ہڈی نکل گئی۔

            بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شفقت پدرانہ کی وجہ سے رونے لگے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے عمامے سے کچھ کپڑا پھاڑا اور اسے زخم پر باندھ دیا۔حضرت لقمان علیہ رحمۃ الرحمنکی آنکھوں سے بہنے والے آنسو جب اُن کے بیٹے کے چہرے پر گرے تو اسے ہوش آگیا، جب اس نے دیکھا کہ میرے والد رورہے ہیں توکہنے لگا: ’’اے ابا جان !آپ تو مجھ سے فرما رہے تھے کہ ہر مصیبت میں بھلائی ہے ۔لیکن اب میر ی اس مصیبت کو دیکھ کر آپ رونے کیوں لگے ؟‘‘ اور یہ مصیبت میرے حق میں بہتر کس طر ح ہوسکتی ہے ؟حالانکہ ہماری کھانے پینے کی تمام اشیاء ختم ہوچکی ہیں ، اور ہم یہاں اس ویران جنگل میں تنہا رہ گئے ہیں ، اگر آپ مجھے یہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے تو آپ کو میری اس مصیبت کی وجہ سے بہت رنج وغم لاحق رہے گا ، اور اگر آپ یہیں میرے ساتھ رہیں گے تو ہم دو نوں یہاں اس ویرانے میں بھوکے پیاسے مر جائیں گے ، اب آپ خودہی بتائیں کہ اس مصیبت میں میرے لئے کیا بہتری ہے ؟‘‘

            بیٹے کی یہ باتیں سن کر حضرت سیدنالقمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’ اے میرے بیٹے! میرا رونا اس وجہ سے تھا کہ میں ایک باپ ہوں اور ہرباپ کااپنی اولاد کے دکھ درد کی وجہ سے غمگین ہوجانا ایک فطر ی عمل ہے، باقی رہی یہ بات کہ اس مصیبت میں تمہارے لئے کیا بھلائی ہے؟تو ہو سکتا ہے اس چھوٹی مصیبت میں تجھے مبتلا کر کے تجھ سے کوئی بہت بڑی مصیبت دو ر کردی گئی ہو ، اور یہ مصیبت اس مصیبت کے مقابلے میں چھوٹی ہو جو تجھ سے دور کر دی گئی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیٹا خاموش ہوگیا ۔

             پھر حضرت سیدنا لقمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سامنے نظر کی تو اب وہا ں نہ تو دھواں تھا اور نہ ہی سایہ وغیرہ ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہدل میں کہنے لگے :’’میں نے ابھی تو اس طر ف دھواں او رسایہ دیکھا تھا لیکن اب وہ کہاں غائب ہوگیا ، ہوسکتا ہے کہ ہمارے پروردگارعزوجل نے ہماری مدد کے لئے کسی کو بھیجا ہو ،ابھی آپ اسی سوچ بچار میں تھے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دور ایک شخص نظر آیا جو سفید لباس زیب تن کئے، سفید عمامہ سر پر سجائے، چتکبرے گھوڑے پر سوار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی طرف بڑی تیزی سے بڑھا چلاآرہا ہے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس سوار کو اپنی طرف آتا دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ آپ کے بالکل قریب ہوگیا ،پھر وہ سوار اچانک نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

           


 

 



Total Pages: 412

Go To