Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکو ملتا،لیکن ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمجانتے تھے کہ اللہ عزوجل کویہ دنیانا پسند ہے لہٰذا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے بھی اس کو قبول نہ فرمایا، جب اللہ عزوجل کے ہاں اس کی کوئی وقعت نہیں تو حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے بھی اس کو کوئی وقعت نہ دی ،اگر آپصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّماسے قبول فرما لیتے تو لوگوں کے لئے دلیل بن جاتی کہ شاید آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّماس سے محبت کرتے ہیں ،لیکن آپصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے اسے قبول نہ فرمایا، کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک شے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ناپسند ہو اورآپصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّماسے قبول فرمالیں۔

            اے امیر المؤمنین(علیہ رحمۃ اللہ المبین) !موت سے پہلے جتنی نیکیاں ہوسکتی ہیں کر لیجئے ورنہ بوقت نزع فائدہ نہ ہوگا، اللہ عزوجل ان نصیحت آموز باتو ں سے ہمیں اور آپ کو خوب نفع عطا فرمائے ،اللہ عزوجل آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ والسَّلام

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر70:                               جرأت مندمبلغ اور ظالم حکمران

            حضرت سیدنامالک بن فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہحضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہسے روایت کرتے ہیں :’’ سابقہ اُمتوں میں ’’ عُقَیْب ‘‘ نامی ایک بزرگ لوگوں سے الگ تھلگ ایک پہاڑی پراللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہیں خبر ملی کہ قریبی شہر میں ایک ظالم وجابر بادشاہ ہے جو لوگو ں پر بہت ظلم کرتا ہے۔ اور بلا وجہ ان کے ہاتھ پاؤں اور ناک ،کان وغیرہ کاٹ ڈالتا ہے ۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کویہ اطلاع ملی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اندراَمْرٌبِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر(یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے) کا عظیم جذبہ شدت سے ابھرا اور اپنے آپ سے کہنے لگے: ’’مجھ پر یہ لازم ہے کہ میں اس ظالم کو اللہ عزوجل سے ڈرنے کی تلقین کرو ں او راسے عذابِ الہٰی عزوجل سے ڈراؤں۔‘‘ چنانچہ آپ اَمْرٌبِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرکے عظیم جذبہ کے تحت پہاڑ سے اترے اور اس ظالم حکمران کے پاس پہنچ کر اس سے بڑے ہی جرأت مندانہ انداز میں فرمایا: ’’ تو اللہ عزوجل سے ڈر۔‘‘ وہ بد بخت وظالم بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اور بڑے متکبرانہ انداز میں گستاخانہ جملے بکتے ہوئے اس بزرگ سے کہنے لگا: ’’ اے کتے ! تیرے جیسا حقیر شخص مجھے اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حکم دے رہا ہے، میں تجھے اس گستا خی کی ضرورسزا دو ں گا اور تجھے ایسی سزادوں گا کہ آج تک دنیا میں ایسی سزا کسی کو نہیں دی گئی ہوگی ۔‘‘

            پھر اس ظالم نے حکم دیا کہ اس کے قدموں سے اس کی کھال اتا رنا شرو ع کرو اور سر تک اس کی کھال اتا ر لوتا کہ یہ درد


 

 



Total Pages: 412

Go To