Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

سفر کی طر ف بغیرہم سفر اور بغیر زادِ راہ کے روانہ ہوتا ہے ۔

            اے امیر المؤمنین (علیہ رحمۃ اللہ المبین)  ! اس دنیا اور اس کی فریب کاریوں سے بچئے ،اس دنیا کی مثال اس سانپ کی طرح ہے جسے ہاتھ لگائیں تو نرم ونازک معلوم ہوتاہے لیکن اس کا زہر جان لیوا ہوتا ہے ،(اسی طرح یہ دنیا بھی دیکھنے میں بہت اچھی ہے لیکن حقیقت میں بہت بری ہے)اس دنیا کی جو شیٔ اچھی لگے اسے ترک کردیجئے ، غمِ دنیا کی وجہ سے ہلکا نہ ہوں اس کے غموں کی پرواہ بھی نہ کیجئے ،دنیا سے ہر گز محبت نہ کیجئے گا کیونکہ اس کا انجام بہت برا ہے ۔

            دنیا کا عاشق جب دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ بے وفادنیااسے طر ح طرح سے پریشان کرتی ہے ، اس کی خوشیوں کو غم میں بدل دیتی ہے،جو اس کی فانی اشیاء کے ملنے پر خوش ہوتا ہے وہ بہت بڑے دھوکے میں پڑا ہے اس کا فائدہ پانے والادر حقیقت شدید نقصا ن میں ہے ، دنیاوی آسائشوں تک پہنچنے کے لئے انسان تکالیف ومصائب کا سامنا کرتا ہے ، جب اسے خوشی ملتی ہے تو یہ خوشی غم و ملال میں تبدیل ہوجاتی ہے نہ تو اس کی خوشی دائمی ہے اور نہ ہی اس کی نعمتیں ، ان کا ساتھ توپَل بھر کا ہے۔

             اے امیر المؤمنین (علیہ رحمۃ اللہ المبین)  ! اس دنیا کو تارک الدنیا کی نظرسے دیکھئے ،نہ کہ عاشقِ دنیا کی نظر سے ،جو اس دارِ ناپائیدار میں آیا وہ یہاں سے ضرور رخصت ہوگا۔نہ ہی یہاں سے جانے والا کبھی واپس آتا ہے ، اور نہ ہی اسے امید ہوتی ہے کہ کوئی اس کی واپسی کا انتظار کر رہا ہوگا ،اس کی دھوکادینے والی امیدوں میں ہرگز نہ پڑیئے، اس دنیا سے ہر دم بچئے، اس کی جو اشیاء بظاہرصاف وشفاف ہیں در حقیقت و ہ گدلی وبیکارہیں۔

            اے امیر المؤمنین(علیہ رحمۃ اللہ المبین) !یہ دنیوی زندگی بہت کم ہے ، اس کی امیدیں جھوٹی ہیں جب تک آپ دنیا میں ہیں خطرہ ہی خطرہ ہے، بہر حال اس کی نعمتیں بہت جلد ختم ہوجائیں گی اور مصیبت پیہم اترتی رہیں گی عقل مند شخص ہمیشہ اس کے دھوکوں سے محفوظ رہتا ہے ،اللہ عزوجل نے دنیا سے بچنے کی خوب تا کید فرمائی ۔

            اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں دنیا کی وقعت کچھ بھی نہیں اس کا وزن اس کی بارگاہ میں ایک چھوٹی سی کنکری کی طر ح بھی نہیں ، جو لوگ اللہ عزوجل کو چاہنے والے ہیں اوراسی کی محبت کے طلبگار ہیں ، وہ لوگ دنیا سے بہت نفرت کرتے ہیں۔

            اے امیر المؤمنین(علیہ رحمۃ اللہ المبین)!سرکارِنامدار،مدینے کے تاجدار،باذِن پروردگاردوعالم کے مالک ومختار،شہنشاہِ اَبرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا او راس کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے لینے سے انکار فرمادیا ، حالانکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکو ان کی طلب سے منع نہ فرمایا گیا تھا اور اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمان چیزوں کو قبول بھی فرمالیتے تب بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے مرتبہ میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی اور جس مقام ومرتبہ کاآپصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمسے


 

 



Total Pages: 412

Go To