Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

پر ندامت اعمالِ قبیحہ کو چھوڑنے کی طرف لے جانے والی ہے ،فانی اشیاء اگر چہ کثیر ہوں باقی رہنے والی اشیاء کی مانند نہیں ،اگرچہ لوگ فانی اشیاء کے زیادہ طالب ہیں۔اس تکلیف کا بر داشت کرلینا جس کے بعد طویل ودائمی راحت ہو، اس راحت کے حصول سے بہتر ہے جس کے بعد طویل غم والم،تکالیف اور ندامت وذلت کا سامنا کر نا پڑے ۔

            اس بے وفا،شکست خوردہ اور ظالم دنیا سے آخرت کی زندگی کئی در جے بہتر ہے۔یہ دھوکے باز،لوگو ں کے سامنے مزّین ہوکر آتی ہے اور خوب دھوکا د ے کر تباہ و بر باد کرڈالتی ہے ،لوگ اس کی جھوٹی امیدوں کی وجہ سے ہلاکت میں پڑجاتے ہیں ، یہ اس دھوکے باز دلہن کی طر ح ہے جو کسی کو نکاح کا پیغام دے ، پھر آراستہ وپیراستہ ہو کر سامنے آجائے، لوگ ا س پر فریفتہ ہو رہے ہوں ، اس کا بناوٹی حسن وجمال آنکھوں کو خیر ہ کرنے لگے، دل اس کی طرف مائل ہوجا ئیں ، اس کی ظاہر ی خوبصورتی دل ودماغ پر چھا جائے ، پھر جب اس کا شوہر اس کے قریب جائے تو وہ اسے ظالمانہ انداز میں قتل کرڈالے۔

            اے امیر المؤمنین( علیہ رحمۃ اللہ المبین) !گزرے ہوئے زمانے سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتااورنہ ہی موجودہ صورتحال سے لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں ،اورنہ ہی موجودہ لوگ گزرے ہوؤں سے عبرت حاصل کرتے ہیں ہر شخص اپنی ہی دنیا میں مگن ہے عقلمند لوگ بھی تجربہ کے باوجود اپنے تجربوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے،اور سمجھ دار لوگ بھی عبرت آموز واقعات سے درسِ عبرت حاصل نہیں کرتے ۔

            اب تو صورتحال یہ ہے کہ ہر شخص اس ظالم دنیا کا شیدائی ہے ،اس کی محبت میں غرق ہوچکا ہے ، اور یہ محبت عشق کے درجے تک جاپہنچی ہے ، اس کا عاشق اس کو چھوڑ کر کسی اورشئے کی طر ف راغب ہوتا ہی نہیں ،دنیا اور اس کا چاہنے والا دونوں ہی ایک دوسرے کے طلبگار ہیں۔ دنیا کا شیدائی یہ سمجھتا ہے کہ میں حصولِ دنیا کے بعد کامیاب ہوگیاہوں حالانکہ وہ ہلاکت کے عمیق گڑھوں میں گر چکا ہوتا ہے وہ دھوکا کھاکر اس کی محبت میں اس طر ح گر فتار ہو جاتا ہے کہ حساب وکتاب اور اپنے مقصدِ حیات کو بھول جاتا ہے ، اپنی نیکیوں کو ضائع کر بیٹھتا ہے ، پھر وہ اس بے وفا دنیا کے عشق میں اس قدر پاگل ہوجاتا ہے کہ اس کے قدم پھسل جاتے ہیں۔جب اسے ہوش آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے تو اپنی تمام زندگی غفلت میں گزاردی ، میں تو تباہ وبر باد ہوگیا مجھے تو بہت بڑا دھوکا دیا گیا ،ہائے! میں نے جھوٹی امیدوں پر آسرا کیوں کیا؟ اب اس شخص کی پریشانی وغم قابل ِدید ہوتا ہے ، پھر حالت ِنزع میں سختیاں بڑھ جاتیں ہیں وہ پریشانیوں اور غموں کے سمندر میں غرق ہورہا ہوتا ہے ، وہی شخص جو اپنے تئیں کامیابی حاصل کر چکا تھا اب اسے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت مَیں دھوکے باز دنیا سے بُری طر ح شکست کھاچکا ہوں ،پھر وہ عاشقِ ناشاد و نامراد اس دنیا سے اسی حالت میں رخصت ہوجاتا ہے ، اور بے وفا دنیا اس کا ساتھ چھوڑ کر کسی اور کو دھوکا دینے چلی جاتی ہے، اب یہ شخص دشوار گزار


 

 



Total Pages: 412

Go To