Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر69:                                           

دھوکے باز دُلہن

             حضرت سیدنا ابو صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’ حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃاللہ المجید کویہ نصیحت آموز خط لکھا:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

            امَّا بَعد:اے امیر المؤمنین (علیہ رحمۃ اللہ المبین)  !جان لیجئے کہ یہ دنیا دھوکے باز اور بے وفا ہے، یہ دائمی اقامت گا ہ نہیں ، حضرت سیدنا آدم علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام کو یہاں دنیا میں آزمائش کے لئے بھیجا گیا،تحقیق ایسے امور جن پر ثواب دیاجاتا ہے ان کا حساب لیا جائے گا اور جن پر عقاب ہے ان پر سزا ہوگی،خواہ ان پر ثواب وعذاب کا حق دار ہونے کا کسی کو علم ہو یا نہ ہو بہرحال حساب ضروری ہے، ہر دور میں دنیا کو پچھاڑنا ضروری ہے ، اور اس کو پچھاڑنا عام پچھاڑ نے کی مانند نہیں بلکہ جو اسے شکست دیتا ہے یہ اس کی تعظیم کرتی ہے ، اور جواس کی تعظیم کرتا ہے یہ اسے ذلیل وخوار کردیتی ہے ۔ہر دور میں یہ ڈائن (یعنی دنیا) کسی نہ کسی کو تباہ وبرباد ضرور کرتی ہے ، یہ میٹھے زہر کی مانند ہے کہ لوگ اسے فائدہ مند شئے سمجھ کر کھالیتے ہیں حالانکہ وہ ہلاکت خیز ہوتی ہے ۔ دنیا میں زادِ راہ یہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کو تر ک کردیا جائے ، دنیا میں تنگدستی غناء ہے، جو یہاں فقر وفاقہ کا شکار ہے درحقیقت وہی غنی ہے ۔

            اے امیر المومنین (علیہ رحمۃ اللہ المبین)! دنیا میں اس مریض کی طر ح رہو جو اپنے مرض کے علاج کی خاطر دواؤں کی سختی برداشت کر تاہے تاکہ اس کا زخم اورمرض مزید نہ بڑھے ، اس تھوڑی تکلیف کو برداشت کرلو جس کی وجہ سے بڑی تکلیف سے بچا جاسکے۔

            بے شک عظمت اور فضیلت کے لائق وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ حق بات کہتے ہیں ،انکساری وتو اضع سے چلتے ہیں ، انکارزق حلال وطیب ہوتا ہے،ہمیشہ حرام چیزوں سے اپنی نگاہوں کو محفوظ رکھتے ہیں ، وہ خشکی میں ایسے خوفزدہ رہتے ہیں جیسے سمندری مسافر ، اور خوشحالی میں ایسے دعائیں کرتے ہیں جیسے مصائب وآلام میں دعا کی جاتی ہے ۔اگر موت کا وقت متعین نہ ہوتا تو اللہ عزوجل سے ملاقات کے شوق ، ثواب کی امید اور عذاب کے خوف سے ان کی روحیں ان کے اجسام میں لمحہ بھر بھی نہ ٹھہرتیں ،خالقِ لم یَزَلْ کی عظمت اور ہیبت ان کے دلوں میں راسخ ہے اور مخلوق ان کی نظرو ں میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ (یعنی وہ فقط رضائے الہٰی عزوجل کے طلب گار ہوتے ہیں )

             اے امیر المومنین (علیہ رحمۃ اللہ المبین) !جان لیجئے !’’ غور وفکر کرنا،اعمالِ صالحہ اور بھلائی کی طرف لے جاتا ہے ، گناہوں


 

 



Total Pages: 412

Go To