Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر68:                              چرواہے کی حکیمانہ باتیں

            حضرت سیدنا نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے ساتھ مدینہ منورہ کی ایک وادی میں گیا۔ ہمارے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے ۔گرمی اپنے جوبن پر تھی گویا سورج آگ بر سارہا تھا ۔ہم نے ایک سایہ دار جگہ میں دستر خوان لگایا اور سب مل کر کھانا کھانے لگے ۔ تھوڑی دیر بعد ہمارے قریب سے ایک چرواہا گزرا ، حضر ت سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس سے فرمایا:’’ آیئے !آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیے ۔‘‘چرواہے نے جواب دیا: ’’میرا روزہ ہے ۔‘‘

             آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہنے اس سے فرمایا:’’ تواس شدید گرمی کے عالم میں سارا دن جنگل میں بکریاں چراتا ہے، تواتنی مشقت کا کام کرتا ہے اور پھر بھی تو نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے؟ کیاتجھ پر نفلی روزہ رکھنا ضروری ہے؟‘‘

            یہ سن کر وہ چرواہا کہنے لگا :’’کیا وہ وقت آگیا جن کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا گیا:

کُلُوْاوَاشْرَبُوْا ھَنِیْٓئًابِمَآ اَسْلَفْتُمْ

فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ0۲۹، الحآ قۃ:۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان:کھاؤاورپیؤ رچتاہوا ،صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا۔

            حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما اس چرواہے کی حکیما نہ باتیں سن کر بڑے حیران ہوئے او راس سے فرمانے لگے: ’’ تم ہمیں ایک بکری فروخت کر دو ہم اسے ذبح کریں گے، اور تمہیں بکری کی مناسب قیمت بھی دیں گے۔‘‘ آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہکی یہ بات سن کرو ہ چرواہا عرض گزار ہوا :’’ حضور! یہ بکریاں میری ملکیت میں نہیں بلکہ یہ میرے آقا کی ہیں ، میں تو غلام ہوں میں انہیں کیسے فروخت کر سکتاہوں ؟‘‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی امانت داری سے بہت متا ثر ہوئے ۔اور ہم سے فرمایا: ’’یہ بھی تو ممکن تھا کہ یہ چرواہا ہمیں بکری بیچ دیتا اور جب اس کا آقا پوچھتا تو جھوٹ بول دیتا کہ بکری کو بھیڑیا کھا گیا لیکن دیکھو یہ کتنا امین ومتقی چرواہا ہے ۔‘‘

            چرواہے نے بھی یہ بات سن لی۔ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا، ’’اگر چہ میرا آقا مجھے نہیں دیکھ رہا لیکن میرا پر وردگار عزوجل تو مجھے دیکھ رہا ہے ،میرا رب عزوجل تو میرے ہر ہر فعل سے باخبر ہے۔‘‘

            حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس چرواہے کی باتوں اور نیک سیرت سے بہت متا ثر ہوئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس چرواہے کے مالک کے پاس پہنچے اور اس نیک چرواہے کو خر ید کر آزاد کردیا اور ساری بکریاں بھی خرید کر اس چرواہے کو ہبہ کردیں۔               {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 



Total Pages: 412

Go To