Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

علیہسے پوچھا :’’ جو منظر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دیکھا کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوئے؟‘‘آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے جواباًارشاد فرمایا:’’ مجھے اس سے حیا آتی ہے کہ میں اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور سے ڈروں۔ ‘‘

            پھر حممہرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے کہا :’’ کیا کرو ں مجھے اس پیٹ کی آزمائش میں مبتلا کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے کھانا وغیرہ کھانا پڑتا ہے اورپھر بول وبراز کی حاجت ہوتی ہے ۔ اگر یہ معاملات نہ ہوتے تو خدا عزو جل کی قسم! میرا رب عزوجل مجھے ہمیشہ رکوع وسجود کی حالت میں دیکھتا ۔حممہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ دن رات میں آٹھ سو رکعت نوافل پڑھتے۔پھر بھی اپنے نفس کو ڈانٹتے ہوئے کہتے :میں تو بہت سست اور کوتا ہ ہوں ، میں بہت سست اور کوتا ہ ہو ں ،کچھ بھی عبادت نہ کرسکا۔

            (میٹھے اسلامی بھائیو!سبحان اللہ عزوجل! عمل ہو تو ایسا اور عاجزی اور خوفِ خدا عزوجل ہوتو ایسا کہ روزانہ ہزار ہزار رکعت پڑھیں ، جسم کو لمحہ بھر بھی آرام نہ دیں ،ہر وقت عبادت میں مشغول رہیں اور بتقضائے بشریت جو وقت بقد رِ ضرورت کھانے وغیرہ میں گزر جائے اس پر بھی افسوس کریں کہ کاش! ہمیں کھانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی تاکہ جو وقت یہاں گزرتا ہے وہ بھی عبادت ہی میں گزرتا۔ ایسی عظیم عبادت کے با وجودعاجزی کرتے ہوئے اپنے آپ کو سست اور کوتا ہ سمجھنا ان عظیم ہستیوں ہی کاحصہ تھا۔ اور ایک ہماری حالت ہے کہ اوّلاً تو عمل کرتے ہی نہیں ، اگر کبھی دوچار نوافل پڑھ بھی لیں تو اپنے آپ کو اولیاء کی صف میں شمار کرنے لگتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا متقی اور عبادت گزار تصور کرنے لگتے ہیں اور اگر کہیں عاجزی کرتے ہیں تو وہ بھی جھوٹی عاجزی جس کی دل تصدیق نہیں کر رہا ہوتا ۔اللہ عزوجل ہمارے حالِ زار پر رحم فرمائے اور ان عظیم بزرگو ں کی عبادت اور سچی عاجزی کے صدقے ہمیں بھی کثرتِ عبادت اور سچی عاجزی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان بزرگو ں کے صدقے ہم بروں کوبھی بھلابنائے ۔آمین)

؎ہر بھلے کی بھلائی کا صدقہ

اس برُے کو بھی کر بھلا یا رب عزوجل

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

 

 

 



Total Pages: 412

Go To