Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حاضر ہوا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا :’’ کیا تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے ؟‘‘ میں نے کہا : ’’میں علیٰحدگی میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں ، پھر میں نے کہا:’’میں حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام لے کر آیا ہوں۔‘‘جیسے ہی انہوں نے یہ سنا تو مجھے ایسا لگا جیسے وہ کانپ رہے ہوں ، میں نے کہا؛انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ’’ ہم تو کھجوریں کھاکراور پانی پی کر گزارہ کر لیتے ہیں ، زندگی ہماری بھی گزرر ہی ہے اور تمہاری بھی۔‘‘اتنا سننا تھاکہ حضرت سیدناعبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا منہ چادر میں چھپایا اور اتنا روئے کہ چادر آنسوؤں سے تر ہوگئی۔

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر65:                             روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں

            حضرت سیدنا ابو سلیم الھذلیعلیہ رحمۃاللہ الولی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر نے جو آخری خطبہ دیا و ہ ان کلمات پر مشتمل تھا :تمام تعریفیں اللہ عز و جل کے لئے ہیں اور درود وسلام ہو نبی ٔآخر الزماں حضرت سیدنامحمد مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر،

            امَّا بعد: اے لوگو! اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں فضول پیدا نہیں فرمایااور نہ ہی تمہارے معاملات یونہی چھوڑ دیئے جائیں گے یعنی تمہارے اُمور نظر انداز نہیں کئے جائیں گے ، بے شک تمہارے لئے ایک دن مقرَّر ہے جس میں تمہارا حساب وکتاب ہو گا اور اس دن اللہ عزوجل تمہارے اعمال کا فیصلہ فرمائے گا، اس دن جو شخص اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم رہا اور اس جنت کے حصول سے محروم رہا جس کی چوڑائی زمین وآسمان کے برابر ہے تو خدا عزوجل کی قسم !وہ شدید نقصان اورگھاٹے میں رہا جو تھوڑی چیزوں کو زیادہ کے بدلے خریدتا ہے اور باقی رہنے والی اُخروی نعمتوں کے بدلے فانی (دنیوی نعمتو ں ) کو خریدتا ہے ، اور امن کے بدلے خوف کو تر جیح دیتا ہے، کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ تم جن کی اولاد ہو وہ اس دنیاسے جاچکے اور موت کا مزہ چکھ چکے اسی طرح عنقریب تم بھی اس دارِ فانی سے رخصت ہوجاؤ گے اور تمہاری جگہ تمہاری اولاد آجائے گی اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا ، بالآخر سب کے سب اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے، اس دنیا میں جس کی مدتِ حیات ختم ہوجاتی ہے وہ زمین کے گہرے گڑھے میں پہنچ جاتاہے اور تم لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اُتارتے ہو اور وہ ایسی حالت میں قبر میں تنہا ہوتا ہے کہ نہ تو اس کے لئے بستر ہوتاہے نہ تکیہ، پھر تم اسے بے یارو مدد گار چھوڑ کر چلے آتے ہو، اس کے عزیز واقارب اس سے جدا ہوجاتے


 

 



Total Pages: 412

Go To