Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

چچازاد بھائی سے کہا :’’ یہ رو شنی کیسی ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’اس قبر سے ہر رات اسی طر ح روشنی ظاہر ہوتی ہے ،نہ جانے اس میں کیا راز ہے؟‘‘ جب میں نے یہ سنا تو ارادہ کیا کہ میں ضرور اس قبر کو کھود کر دیکھو ں گا ۔‘‘ چنانچہ میں نے پھاؤڑا منگوایا ابھی قبر کھود نے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ قبر خود بخود کھل گئی۔ جب میں نے اس میں جھانکا تو اللہ عزوجل کی قدرت کا کرشمہ نظر آیا کہ یہ میرا بچہ اپنی ماں کی گو د میں بیٹھا کھیل رہا تھا جب میں قبر میں اُتر ا تو کسی ندادینے والے نے ندادی :’’ تُو نے جو امانت اللہ عزوجل کے پا س رکھی تھی وہ تجھے واپس کی جاتی ہے ، جا! اپنے بچے کو لے جا، اگر تُواس کی ماں کو بھی اللہ عزوجل کے سپرد کر جاتا تو اسے بھی صحیح وسلامت پاتا ۔‘‘پس میں نے اپنے بچے کو اٹھا یا اور قبر سے باہر نکالا جیسے ہی میں قبر سے باہر نکلا قبر پہلے کی طر ح دوبارہ بند ہوگئی۔

                (میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے ! صحابی ٔ رسول  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا بیٹا اللہ عزوجل کے سپرد کیا تو اللہ عزوجل نے اسے قبر میں بھی زندہ رکھا۔ اے اللہ عزوجل !ہم بھی اپنا ایمان تیرے سپر د کرتے ہیں تو ہمارے ایمان کی حفاظت فرمانا اور ہمارا خاتمہ با لخیر فرمانا)

مسلماں  ہے  عطار ؔ  تیری  عطا  سے                                                 ہو ایمان پر خاتمہ یا الہٰی عزوجل

 

 {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر64:                                      ایک پرُ اثر پیغام

            حضرت سیدنا نافع طاحی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ ایک مرتبہ میرا گزر حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے ہو ا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا :’’تم کون ہو؟‘‘ میں نے کہا:’’ میں عراق کا رہنے والا ہوں۔‘‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:’’کیا تم حضرت سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جانتے ہو؟ ‘‘میں نے کہا:’’جی ہاں۔‘‘آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’حضرت سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے ساتھ پڑھا کرتے تھے اور میرے بہت گہرے دو ست تھے ،پھر انہوں نے حکومتی عہدہ طلب کیا اور بصرہ کے والی بن گئے، تم جب بصرہ پہنچو تو ان کے پاس جانا۔ جب وہ پوچھیں :’’ کیا تمہیں کوئی حاجت ہے ؟‘‘ تو کہنا: ’’میں آپ سے تنہائی میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔‘‘پھر جب وہ تنہائی میں تم سے ملاقات کریں توکہنا:’’ میں حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام لے کر آیا ہوں ، انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور کہا ہے:’’ہم کھجوریں کھاتے ہیں او رپانی پیتے ہیں ،زندگی ہماری بھی گزر رہی ہے اور تمہاری بھی گزر رہی ہے ۔‘‘

            حضرت سیدنا نافع طاحی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ جب میں حضرت سیدناعبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس



Total Pages: 412

Go To