Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

کہیں مر ہی نہ جائے، آخرکس طرح اسے یہ غمناک خبر سناؤں کہ اسے صبر نصیب ہوجائے چنانچہ میں اس شخص کے پاس پہنچا، اسے سلام کیا اس نے جواب دیا ، پھر میں نے اس سے پوچھا:’’ میں تم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کیا تم جواب دو گے ؟‘‘ یہ سن کرو ہ کہنے لگا کہ اگر مجھے معلوم ہوا تو ان شاء اللہ عزوجل ضرور جواب دو ں گا۔‘‘ میں نے کہا :’’تم یہ بتاؤ کہ اللہ عزوجل کے ہاں حضرت سیدنا ایوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام ومرتبہ زیادہ ہے یا آپ کا ؟‘‘ یہ سن کر وہ کہنے لگا : ’’یقینا حضرت سیدنا ایوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا مرتبہ ومقام ہی زیادہ ہے ۔‘‘ پھر میں نے کہا :’’ جب آپ علیہ السلام کو مصیبتیں پہنچیں تو آپ علیہ السلام نے ان بڑ ی بڑی مصیبتوں پر صبر کیا یا نہیں ؟‘‘وہ کہنے لگا:’’ حضرت سیدنا ایوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے کما حقُّہٗ مصیبتوں پر صبر کیا۔ ‘‘پھر میں نے کہا :’’ ان کو تو اس قدر بیماری اور مصیبتیں پہنچیں کہ جو لوگ ان سے بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے انہوں نے بھی آپ علیہ السلام سے دوری اختیار کرلی اور راہ چلنے والے آپ علیہ السلام سے اعراض کرتے ہوئے چلتے تھے ۔کیا آپ علیہ السلام نے ایسی حالت میں صبر سے کام لیا یا نہیں ؟‘‘ وہ شخص کہنے لگا:’’  آپ علیہ السلام نے ایسی حالت میں بھی صبر وشکر سے کام لیا اور صبر وشکر کا حق ادا کیا۔‘‘ یہ سن کر میں نے اس شخص سے کہا: ’’پھر تم بھی صبر سے کام لو، سنو!اپنے جس بیٹے کاتم نے تذکرہ کیا تھا اس کو درندہ کھا گیا ہے۔‘‘

            یہ سن کر اس شخص نے کہا: ’’تمام تعریفیں اللہ عزوجل کے لئے ہیں جس نے میرے دل میں دنیا کی حسرت ڈالی۔‘‘پھر وہ شخص رو نے لگا اور رو تے روتے اس نے جان دے دی۔ میں نے  اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَکہااو رسوچنے لگا کہ میں اس جنگل بیابان میں اکیلے اس کی تجہیز وتکفین کیسے کرو ں گا، یہاں اس ویرانے میں میری مدد کو کون آئے گا ۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک سمت مجھے دس بارہ سواروں کا قافلہ نظر آیا۔ میں نے انہیں اشارے سے اپنی طر ف بلایا تو وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے پوچھا:’’ تم کون ہو اور یہ مردہ شخص کون ہے؟‘‘ میں نے انہیں سارا واقعہ سنایا تو وہ وہیں رُک گئے اور  اس شخص کو سمندر کے پانی سے غسل دیااور اسے وہ کفن پہنایا جو ان کے پاس تھا پھر مجھے اس کی نماز جنازہ پڑھانے کو کہا تو میں نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہوں نے میری اِقتداء میں نمازِ جنازہ ادا کی۔

             پھر ہم نے اس عظیم شخص کو اسی خیمہ میں دفن کر دیا۔ ان نورانی چہروں والے بزرگو ں کا قافلہ ایک طر ف روانہ ہوگیا، میں وہیں اکیلا رہ گیا ،رات ہوچکی تھی لیکن میرا وہاں سے جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ،مجھے اس صابر وشاکر انسان سے محبت ہوگئی تھی، میں اس کی قبر کے پاس ہی بیٹھ گیا ، کچھ دیر بعد مجھ پر نیند کاغلبہ ہوا تو میں نے خواب میں ایک نورانی منظر دیکھا کہ میں اور وہ شخص ایک سبز قبے میں موجود ہیں او روہ سبز لباس زیبِ تن کئے کھڑے ہوکر قرآنِ حکیم کی تلاوت کر رہا ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا: ’’کیا تُومیراوہی دوست نہیں جس پر مصیبتیں ٹو ٹ پڑی تھیں اور وہ اِنتقال کرگیا تھا ؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا :


 

 



Total Pages: 412

Go To