Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

’’اے میرے پروردگار عزوجل !میں تیری وہ حمد کرتا ہوں جو تیری تمام مخلوق کی حمد کے برابر ہو۔ اے میرے پروردگار عزجل! بے شک تُو تمام مخلوق کا خالق ہے اور تو سب پر فضیلت رکھتاہے، میں اس انعام پر تیری حمد کرتا ہوں کہ تُو نے مجھے اپنی مخلوق میں کئی لوگوں سے افضل بنایا۔‘‘

            وہ بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اس شخص کی یہ حالت دیکھی تو میں نے کہا :’’خدا عزوجل کی قسم! میں اس شخص سے یہ ضرور پوچھوں گا کہ کیا حمد کے یہ پاکیزہ کلمات تمہیں سکھائے گئے ہیں یا تمہیں الہام ہوئے ہیں ؟‘‘ چنانچہ اسی ارادے سے میں اس کے پاس گیا اور اسے سلام کیا ، اس نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے کہا:’’ اے مرد ِصالح !میں تم سے ایک چیز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں کیا تم مجھے جواب دو گے ؟ ‘‘وہ کہنے لگا: ’’اگر مجھے معلوم ہوا تو ان شاء اللہ عزوجل ضرور جواب دو ں گا۔‘‘میں نے کہا:’’وہ کونسی نعمت ہے جس پر تُم اللہ عزوجل کی حمد کررہے ہواور وہ کونسی فضیلت ہے جس پر تُم شکر ادا کر رہے ہو؟ ‘‘(حالانکہ تمہارے ہاتھ، پاؤں اور آنکھیں وغیرہ سب ضائع ہوچکی ہیں پھربھی تُم کس نعمت پر حمدبجا لارہے ہو ۔)

             وہ شخص کہنے لگا :’’ کیا تُو دیکھتا نہیں کہ میرے رب عزوجل نے میرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟‘‘ میں نے کہا :’’کیوں نہیں ، میں سب دیکھ چکاہوں۔‘‘ پھر وہ کہنے لگا :’’ دیکھو!اگر اللہ عزوجل چاہتا تو مجھ پر آسمان سے آگ بر سادیتا جو مجھے جلاکر راکھ بنا دیتی، اگر وہ پر وردگار عزوجل چاہتا تو پہاڑوں کو حکم دیتا اور وہ مجھے تباہ وبر باد کر ڈالتے ، اگر اللہ عزوجل چاہتا تو سمندر کو حکم فرماتا جو مجھے غرق کردیتا یا پھر زمین کو حکم فرماتا تو وہ مجھے اپنے اندر دھنسا دیتی لیکن دیکھو، اللہ عزوجل نے مجھے ان تمام مصیبتوں سے محفوظ رکھا پھر میں اپنے رب عزوجل کا شکر کیوں نہ ادا کروں ، اس کی حمد کیوں نہ کروں اوراس پاک پرور دگار عزوجل  سے محبت کیوں نہ کروں ؟‘‘

            پھر مجھ سے کہنے لگا :’’ مجھے تم سے ایک کام ہے، اگر کر دو گے تو تمہارا احسان ہو گا،چنانچہ وہ کہنے لگا: ’’میرا ایک بیٹا ہے جو نماز کے اوقات میں آتا ہے اور میری ضروریات پوری کرتا ہے اور اسی طرح  افطاری کے وقت بھی آتا ہے لیکن کل سے وہ میرے پاس نہیں آیا، اگر تم اس کے بارے میں معلومات فراہم کردو تو تمہارا احسان ہوگا ۔‘‘ میں نے کہا :’’میں تمہارے بیٹے کو ضرور تلاش کرو ں گا اور پھر میں یہ سوچتے ہوئے وہاں سے چل پڑا کہ اگر میں نے اس مردِ صالح کی ضرورت پوری کردی تو شاید اسی نیکی کی وجہ سے میری مغفرت ہوجائے ۔‘‘ چنانچہ میں اس کے بیٹے کی تلاش میں ایک طر ف چل دیا ، چلتے چلتے جب ریت کے دو ٹیلوں کے درمیان پہنچا تو وہاں کا منظر دیکھ کر میں ٹھٹھک کر ُرک گیا۔میں نے دیکھا کہ ایک درندہ ایک لڑکے کو چیر پھاڑ کر اس کا گو شت کھارہاہے ،میں سمجھ گیا کہ یہ اسی شخص کا بیٹا ہے، مجھے اس کی موت پر بہت افسوس ہوا اور میں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا اور واپس اسی شخص کے خیمے کی طر ف چل دیا ۔

            میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر میں نے اس پر یشان حال شخص کو اس کے بیٹے کی موت کی خبر فوراً ہی سنادی تووہ یہ خبر سن کر

 

 



Total Pages: 412

Go To