Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

المؤمنین (رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) !میرے پاس آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ایک امانت ہے۔‘‘ پھر میں نے  وہ انگوٹھی دکھائی، انہوں نے انگوٹھی دیکھ کر حکم دیا کہ اسے ہمارے مہمان خانے میں لے جاؤ میں اس سے علیٰحد گی میں گفتگو کرو ں گا۔

             چنانچہ مجھے محل میں پہنچا دیا گیا،جب خلیفہ ہارو ن الرشید  علیہ رحمۃاللہ المجید کی واپسی ہوئی تو انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور باقی تمام لوگو ں کو باہر جانے کا حکم دیا، پھر مجھ سے پوچھا:’’ تم کون ہو؟‘‘ میں نے کہا:’’ میرا نام عبداللہ بن فرج ہے۔‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’ تمہارے پاس یہ انگوٹھی کہاں سے آئی؟‘‘میں نے اس عظیم نوجوان کا سارا واقعہ خلیفہ ہارو ن الرشید  علیہ رحمۃاللہ المجید کو سنادیا ۔‘‘

            یہ سن کر وہ اس قدر روئے کہ مجھے ان پر ترس آنے لگا ۔       پھر جب وہ میری طر ف متوجہ ہوئے تومیں نے ان سے پوچھا : ’’اے امیر المؤمنین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ !اس نوجوان سے آپ کا کیا رشتہ تھا ؟‘‘آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :’’ وہ میرا بیٹا تھا ۔‘‘ میں نے پوچھا:’’ اس کی یہ حالت کیسے ہوئی؟‘‘آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’وہ مجھے خلافت ملنے سے پہلے پیدا ہوا تھا۔‘‘ ہم نے اس کی خوب نیک ماحول میں پرورش کی او راس نے قرآن کا علم سیکھا پھرجب مجھے خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی تو اس نے مجھے چھوڑ دیا، اور میری دنیاوی دولت سے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا، یہ اپنی ماں کا بہت فرمانبردار تھا، میں نے اِس کی ماں کو ایک انگوٹھی دی جس میں بہت ہی قیمتی یا قوت تھا اور اس سے کہا:’’ یہ میرے بیٹے کو دے دو تا کہ بوقتِ ضروت اسے بیچ کر اپنی حاجت پوری کر سکے۔‘‘ اس کے بعد وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا اور ہمیں اس کے متعلق بالکل معلومات نہ مل سکیں ،آج تم نے اس کے متعلق بتایاہے پھرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ رونے لگے اورکہا:’’آج رات مجھے اس کی قبر پر لے چلنا ۔‘‘

             جب رات ہوئی اور ہم دونوں اس کی قبر پر پہنچے تو خلیفہ ہارو ن الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید اس کی قبر کے پاس بیٹھ گئے اور زاروقطار رونا شروع کر دیا اور ساری رات روتے روتے گزاردی جب صبح ہوئی تو ہم وہاں سے واپس آگئے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مجھ سے فرمانے لگے:’’ تم روزانہ رات کے وقت میرے پاس آیا کرو،ہم دونوں اس کی قبر پر آیا کریں گے۔‘‘چنانچہ میں ہر رات ان کے پاس جاتا، وہ میرے ساتھ قبر پر آتے اور رونا شروع کردیتے پھر واپس چلے جاتے ۔حضرت سیدنا عبداللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ نوجوان خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید  علیہ رحمۃاللہ المجید کا شہزاد ہ تھا۔‘‘ مجھے تو اس وقت معلوم ہوا جب خودامیر المؤمنین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہنے بتایا کہ وہ میرا بیٹاتھا۔‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷


 

 



Total Pages: 412

Go To