Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

اس نے کہا :’’جی ہاں ، لیکن میری وہی شرائط ہوں گی جو میں نے پہلے بتائی تھیں۔‘‘میں نے کہا: ’’مجھے منظور ہے، تم میرے ساتھ چلو۔‘‘ وہ میرے ساتھ میرے گھر آیا او رمیں نے اسے کام کی تفصیل بتادی وہ بڑی دیانتداری سے پہلے کی طر ح کام کرتارہا اور اس نے کئی مزدوروں جتنا کام کیا، شام کو میں نے اسے طے شدہ اُجرت سے زیادہ رقم دینا چاہی تو اس نے زائد رقم لینے سے انکار کردیا۔ میں نے بہت اصرار کیا مگر وہ نہ مانا اور اجرت لئے بغیر ہی وہاں سے جانے لگا مجھے اس بات سے بڑا رنج ہوا کہ وہ بغیر اجرت لئے ہی جا رہا ہے۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور بصد عاجزی اسے اُجرت دی۔ اس نے زائد رقم واپس کر دی اورطے شدہ مزدوری لے کر وہاں سے روانہ ہوگیا ۔ کچھ دنوں کے بعد جب دوبارہ ہمیں مزدور کی ضرورت پڑی تومیں ہفتہ کے دن بازار گیا اور اسی نوجوان کو تلاش کرنے لگا لیکن وہ مجھے کہیں نظر نہ آیا میں نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگو ں نے بتایا کہ وہ ہفتے میں صرف ایک دن کام کرتا ہے اور مزدوری میں ایک درہم اور ایک دانق (یعنی درہم کا چھٹا حصہ) اُجر ت  لیتاہے، وہ روزانہ ایک دانق اپنے استعمال میں لاتا ہے ۔آج وہ بیمارتھااس لئے نہیں آیا ۔میں نے پوچھا :’’ وہ کہا ں رہتا ہے؟‘‘ لوگو ں نے بتا یا:’’ فلاں مکان میں رہتا ہے۔‘‘ میں وہاں پہنچا تو وہ ایک بڑھیا کے مکان میں موجود تھا۔ بڑھیا نے بتا یا کہ یہ کئی دنوں سے بیمار ہے۔ میں اس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ سخت بیماری میں مبتلاہے اور اینٹوں کا تکیہ بنایا ہوا ہے ، میں نے اسے سلام کیا او ر پوچھا:’’ اے میرے بھائی! کیا تمہاری کوئی حاجت ہے ؟‘‘ کہنے لگا:’’جی ہا ں ، مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے، کیا تم اسے پورا کر و گے ؟ میں نے کہا: ’’ان شاء اللہ عزوجل میں تمہارا کام ضرور پورا کروں گا، بتاؤ! کیا کام ہے ؟‘‘

             اس نوجوان نے کہا:’’جب میں مرجاؤں تو یہ لوٹا اور زنبیل بیچ کر گور کن کو اُجرت دے دینا اور کفن کے لئے مجھے میرا یہی اُون کا جبہ اور چادر کا فی ہے، مجھے اسی لباس میں سپرد خاک کردینا اور میری جیب میں ایک انگوٹھی ہے اسے اپنے پاس رکھنا اور میری تدفین کے بعد اسے امیر المؤمنین ہارو ن الرشید علیہ رحمۃاللہ المجید کے پاس لے جانا، جب ان کی شاہی سوا ری فلاں دن فلاں مقام سے گزرے توانہیں کہنا: ’’میرے پاس آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ایک امانت ہے پھر انہیں یہ انگوٹھی دکھا دینا،وہ خود ہی تمہیں اپنے پاس بلا لیں گے اوراس بات کا خیال رکھنا کہ یہ کام میری تدفین کے بعد ہی کرنا۔‘‘ میں نے کہا:’’ ٹھیک ہے،میں تمہاری وصیت پر عمل کرو ں گا ۔‘‘

            پھر اس عظیم نوجوان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ مجھے اس کی موت کا بہت دکھ ہوا ،بہر حال میں نے اس کی وصیت کے مطابق اس کی تجہیز وتکفین کی اور پھر انتظار کرنے لگا کہ خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدکی سواری کس دن نکلتی ہے۔ جب وہ دن آیا تو میں راستے میں بیٹھ گیا ،امیر المؤمنین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جاہ وجلال کے عالم میں ہزارو ں شہسواروں کے ساتھ بڑی شان وشوکت سے چلے آرہے تھے۔جب ان کی سواری میرے قریب سے گزری تو میں نے بلند آواز سے کہا:’’اے امیر


 

 



Total Pages: 412

Go To