Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

 

حکایت نمبر39:                               

ایسے ہوتے ہیں ڈرنے والے !

            حضرت سیدنا منصور بن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں ،میں ایک اندھیری رات سفر پر روانہ ہوا،میں راستے میں ایک جگہ بیٹھ گیا، اچانک میں نے کسی نوجوان کے رونے کی آواز سنی جو روتے ہوئے اس طر ح کہہ رہا تھا :’’اے میرے پروردگار عزوجل! تیری عزت و جلال کی قسم !میں نے تیری نافرمانی تیری مخالفت کی بناء پر نہیں کی اور نہ ہی گناہ کرتے وقت میں تیرے عذاب سے بے خبر تھا بلکہ میری بدبختی نے گناہ کو میرے لئے مزیّن کردیا،اور میں تیری صفتِ ستّاری کی وجہ سے گناہوں پر دلیر ہو گیا۔تو بار بار میرے گناہوں پر پردہ ڈالتا رہا، میں گناہوں پر جرأ ت کرتا رہا۔ہائے میری بر بادی! اب مجھے تیرے عذاب سے کون بچائے گا؟ اگر تو نے مجھ سے تعلق ختم کردیا تو میں کس سے رشتہ قائم کروں گا۔ ہا ئے افسوس! میں نے ساری جوانی تیری نافرمانی میں گزار دی، میں بار بار تو بہ کرتا پھر گناہ کر ڈالتا، اب تو توبہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے ۔‘‘

            حضرت سیدنا منصور بن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں :’’اس نوجوان کی گریہ وزاری سن کر میں نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت کی :

 یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَاالنَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَامَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ

۲۸، تحریم: ۶ )

ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اورپتھر ہیں ، اس پر سخت کرّے(طاقتور)فرشتے مقررہیں۔

            جب میں نے یہ آیت تلاوت کی تو مجھے ایک چیخ سنائی دی اور پھرخاموشی طاری ہوگئی۔ اس کے بعد میں وہاں سے آگے روانہ ہوگیا، صبح جب میں دوبارہ اسی مکان کے قریب آیا تو وہاں کسی کا جنازہ رکھا ہوا تھا، اور ایک بوڑھی عورت وہاں موجود تھی۔ میں نے اس سے پوچھا :’’یہ کس کا جنازہ ہے ؟‘‘ کہنے لگی :’’تو کون ہے؟ اور اس کے متعلق پوچھ کر میرے غم کوکیوں تازہ کرنا چاہتا ہے؟‘‘ میں نے کہا:’’ میں ایک مسافر ہوں۔‘‘پھر اس بوڑھی عورت نے بتایا:’’یہ میرے بیٹے کی لاش ہے، کل رات یہ نماز پڑھ رہا تھا کہ کوئی شخص گلی سے گزرا اور اس نے ایسی آیت پڑھی جس میں جہنم کی آگ کا تذکرہ تھا ، پس اُس آیت کو سن کر میرا بیٹا تڑ پنے لگا اور اس نے روتے روتے جان دے دی۔‘‘ یہ سن کر حضرت سیدنا منصور بن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفار وہاں سے چلے آئے اور اپنے آپ کو مخاطب کر کے فرمانے لگے :’’اے ابن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفار! ’’ایسے ہوتے ہیں ڈرنے والے۔ ‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 



Total Pages: 412

Go To