Book Name:Akhlaq us Saliheen

دشمنی کی ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، غیرتہم لانتہاک الحرمات، ص۴۵)

        اس سے معلوم ہوا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے محبت ، اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کے لئے بغض یہ افضل اعمال میں سے ہے  ۔ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرمایا کرتے تھے: ’’مصارمۃ الفاسق قربۃ الی اللّٰہ‘‘. (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، غیرتہم لانتہاک الحرمات، ص۴۶)

کہ فاسق کے ساتھ قطع (تعلق) کرنا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا قرب حاصل کرنا ہے ۔

        حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے پوچھا گیا کہ کیا فاسق کے پاس تعزیت یاماتم پرسی کے لئے جانادرست ہے یانہیں ؟توآپ نے فرمایاکہ درست نہیں ہے  ۔

 (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، غیرتہم لانتہاک الحرمات، ص۴۶)

           حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :’’من ادعی انہ یحب عبدًا لِلّٰہ تعالی ولم یبغضہ اذا عصی اللّٰہ تعالی فقد کذب فی دعواہ انہ یحبہ لِلّٰہ‘‘   

             (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، غیرتہم لانتہاک الحرمات، ص۴۶)

        یعنی جو شخص دعویٰ کرے کہ میں فلاں شخص کو خدا کے لئے دوست رکھتا ہوں اور وہ شخص جب نافرمانی کرے اورو ہ اسے برا نہ سمجھے تو اس نے محبت کے دعویٰ میں جھوٹ کہا کہ خدا کے لئے ہے  ۔ اس کی محبت خدا کے لئے نہیں  ۔ اگر خدا کے لئے ہوتی تو اس نے نافرمانی کی تھی اسے اس نافرمانی کے سبب برا سمجھتا اللہ  تَعَالٰی کے مقبولوں کو بے دینوں سے ایسی نفرت تھی ۔ حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کتّے کو جب آپ کے سامنے آکر بیٹھ جاتا تو نہ ہٹاتے اور فرماتے ’’ھوخیر من قرین السو ء ‘‘ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، غیرتہم لانتہاک الحرمات، ص۴۶)

کہ برے ساتھی سے کتّا اچھا ہے  ۔ حضرت احمد بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ نیکوں سے محبت اور ان کے پاس بیٹھنا ان کی صحبت میں رہنا ان کے افعال واقوال دیکھ کر عمل کرنا، انسانی قلب کے لئے اس سے زیادہ کوئی بات نافع نہیں اور بروں کی صحبت میں رہنا فاسقوں سے خلط ملط رکھنا ان کے برے کام دیکھ کر برا نہ جاننا اس سے زیادہ قلب کے لئے کوئی شے ضرر رساں نہیں  ۔

                   (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، غیرتہم لانتہاک الحرمات، ص۴۷)

         حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اہل معاصی کے ساتھ بغض رکھ کر اللہ  تَعَالٰی کے ساتھ محبت رکھو اور ان سے دور رہ کراللہ  تَعَالٰی کی طرف رجوع کرو اور ان کو برا سمجھنے سے اللہ  تَعَالٰی کی رضا حاصل کرو  ۔ لوگوں نے عرض کی کہ اے نبی اللہ ! پھر ہم کس کے پاس بیٹھیں ؟ فرمایا:جالسوا من یذکرکم اللّٰہ رویتہان لوگوں کے پاس بیٹھو جن کا دیکھنا تمہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کویادکراوے اور جن کا کلام تمہارے اعمال میں زیادتی کا باعث ہو اور ان کے اعمال تمہیں آخرت کی طرف رغبت دیں ۔(نزہۃ الناظرین، کتاب آداب الصحبۃ، الباب الثانی فی فضل الحب فی اللّٰہ، ص۱۶۶)

        حضرت سہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے آیت لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ.([1])  کی تفسیر میں آیا ہے کہ جس نے اپنا ایمان صحیح کیا اور توحید خالص کی وہ بدعتی کے ساتھ نہ بیٹھے نہ اس کے ساتھ کھائے بلکہ اپنی طرف سے اس کے حق میں دشمنی اور بغض ظاہر کرے جس نے بدعتی کے ساتھ مداہنت کی اللہ  تَعَالٰی اس سے یقین کی لذّت چھین لیتا ہے اور جس نے بدعتی کو تلاشِ عزت یا تونگری کے لئے مقبول رکھا اللہ  تَعَالٰی اس کو عزت میں خوار کرے گااور اسے تونگری میں مفلس کردے گا ۔

        حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :جس نے بدعتی کی بات سنی اللہ  تَعَالٰی اس کو اس بات سے فائدہ نہیں دیتا اور جو بدعتی سے مصافحہ کرتا ہے وہ اسلام کا زور توڑ دیتا ہے۔

         حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : جو بدعتی کو دوست رکھے گا اللہ  تَعَالٰی اس کے اعمال کو حبط (برباد)کردیتا ہے اور اس کے دل سے اسلام کا نور نکل جاتاہے جو شخص بدعتی کے ساتھ بیٹھتا ہو اس سے بھی بچنا لازم ہے ۔انہی سے روایت ہے کہ اگر کسی راستے میں بدعتی آتاہو تو دوسرا راستہ اختیار کرو ۔

         حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :جو شخص بدعتی سے ملنے گیا اس کے دل سے نور ایمان جاتارہا۔(مجالس الابرار)

نوٹ:۔جانناچاہیے کہ اس زمانہ میں مقلدین کے سوا جتنے فرقے ہیں سب بدعتی ہیں جن کی مجالست ومخالطت ممنوع ہے ۔

        سرورِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان تینوں صحابیوں سے بول چال بند کردی جو ایک جنگ کے پیچھے رہ گئے تھے  ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان مخالفانِ شریعت سے قطع تعلق کرلیا کرتے تھے  ۔ سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک ایسے شخص کے حق میں فرمایا: لایصلی لکم یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے جس نے قبلہ شریف کی طرف منہ کرکے تھوکا تھا  ۔

 آج اگر ہم کسی بے ادب فرقہ کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع کریں تو لوگ ہمیں تفرقہ انداز کہتے ہیں حالانکہ یہ تفرقہ نہیں عین اتباع ہے ۔ مسلم شریف کی روایت میں حضور علیہ السلام نے فایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم فرمایا۔    (صحیح مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الروایۃعن الضعفائ...الخ، الحدیث:۷، ص۹)

کہ تم ان سے بچو اور ان کو اپنے سے الگ رکھو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنہ میں نہ ڈالیں ۔

        دیکھو سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کتنی تاکید کے ساتھ بے دینوں سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہ



Total Pages: 24

Go To