Book Name:Akhlaq us Saliheen

(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۳۲)

          حضرت عکرمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کوئی شخص اس شخص سے زیادہ بے عقل نہیں دیکھا جو اپنے نفس کی برائی کو جانتا ہے پھر وہ چاہتا ہے کہ لوگ مجھے عالم و صالح سمجھیں  ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کانٹے بوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس میں کھجوروں کا پھل لگے ۔ (تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۳۲، ملتقطا)

        حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سجدہ میں رورہا ہے فرمایا:نعم ھذا لوکان فی بیتک حیث لا یراک الناس ۔ (تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۳۲، ملتقطا)

یعنی یہ اچھا کام ہے اگر گھر میں ہوتا جہاں لوگ نہ دیکھتے ۔

حکایت

        حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  احیاء العلوم میں نقل کرتے ہیں کہ ایک عابد کو جو کہ عرصہ دراز سے عبادتِ الٰہی میں مشغول تھا لوگوں نے کہا کہ یہاں ایک قوم ہے جو ایک درخت کی پرستش کرتی ہے  ۔ عابد سن کر غضب میں آیا اور اس درخت کے کاٹنے پر تیار ہوگیا  ۔ اس کو ابلیس ایک شیخ کی صورت میں ملااور پوچھا کہ کہاں جاتا ہے؟عابد نے کہا کہ میں اس درخت کے کاٹنے کو جاتا ہوں جس کی لوگ پرستش کرتے ہیں ۔وہ کہنے لگاکہ تو فقیر آدمی ہے تجھے ایسی کیا ضرورت پیش آگئی کہ تو نے اپنی عبادت اور ذکر وفکر کو چھوڑا اور اس کام میں لگ پڑا  ۔ عابد بولا کہ یہ بھی میری عبادت ہے  ۔ ابلیس نے کہاکہ میں تجھے ہرگز درخت کاٹنے نہیں دوں گا۔اس پر دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی ۔

عابد نے شیطان کو نیچے ڈال لیا اور سینہ پربیٹھ گیا  ۔ ابلیس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دے میں تیرے ساتھ ایک بات کرنا چاہتا ہوں ، وہ ہٹ گیا تو شیطان نے کہا:اللہ  تَعَالٰی نے تم پر اس درخت کا کاٹنا فرض نہیں کیا اور تو خود اس کی پوجا نہیں کرتا پھر تجھے کیا ضرورت ہے کہ اس میں دخل دیتا ہے ۔ کیا تو نبی ہے یا تجھے خدا نے حکم دیا ہے؟ اگرخدا کو اس درخت کا کاٹنا منظور ہے تو کسی اپنے نبی کو حکم بھیج کر کٹوادے گا۔عابد نے کہا :میں ضرور کاٹوں گا پھران دونوں میں جنگ شروع ہوگئی عابد اس پر غالب آگیا اس کو گرا کر اس کے سینہ پر بیٹھ گیا ۔

         ابلیس عاجز آگیااوراس نے ایک اور تدبیر سوچی اور کہا کہ میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو میرے اور تیرے درمیان فیصلہ کرنے والی ہو اور وہ تیرے لئے بہت بہتر اور نافع ہے  ۔ عابد نے کہا:وہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دے تو میں تجھے بتاؤں  ۔ اس نے چھوڑ دیا تو ابلیس نے بتایا کہ تو ایک فقیر آدمی ہے تیرے پاس کوئی شے نہیں لوگ تیرے نان و نفقہ کا خیال رکھتے ہیں ، کیا تو نہیں چاہتا کہ تیرے پاس مال ہو اور تو اس سے اپنے خویش واقارب کی خبر رکھے اور خود بھی لوگوں سے بے پرواہ ہوکر زندگی بسرکرے؟اس نے کہا:ہاں یہ بات تو دل چاہتاہے  ۔ تو ابلیس نے کہا کہ اس درخت کے کاٹنے سے باز آجا، میں ہر روز ہررات کوتیرے سر کے پاس دو دینار رکھ دیا کروں گا سویرے اُٹھ کر لے لیا کر، اپنے نفس پر اپنے اہل و عیال پراوردیگر اقارب وہمسایوں پرخرچ کیاکرتیرے لئے یہ کام بہت مفیداور مسلمانوں کے لئے بہت نافع ہوگا ۔ اگر یہ درخت تو کاٹے گا تو اس کی جگہ اور درخت لگالیں گے تو اس میں کیا فائدہ ہوگا؟عابد نے تھوڑا تفکر کیا اور کہا کہ شیخ  (ابلیس) نے سچ کہا، میں کوئی نبی

 نہیں ہوں کہ اس کا قطع کرنامجھ پر لازم ہو اور نہ مجھے حق سبحانہ و تَعَالٰی نے اس کے کاٹنے کا امر فرمایا ہے کہ میں نہ کاٹنے سے گنہگار ہوں گا اور جس بات کا اس شیخ نے ذکر کیا ہے وہ بیشک مفید ہے  ۔ یہ سوچ کر عابد نے منظور کرلیا اور پورا عہد کرکے واپس آگیا ۔رات کو سویا صبح اٹھا تو دو دینار اپنے سرہانے پاکر بہت خوش ہوا  ۔ اسی طرح دوسرے دن بھی دودینار مل گئے  ۔ پھر تیسرے دن کچھ نہ ملا تو عابد کوغصّہ آیا اور پھر درخت کاٹنے کے ارادے سے اُٹھ کھڑا ہوا  ۔ پھر ابلیس اسی صورت میں سامنے آگیا  ۔ اور کہنے لگا کہ اب کہاں کا ارادہ ہے ؟عابد نے کہا کہ درخت کاٹوں گا  ۔ اس نے کہا کہ میں ہرگز نہیں جانے دوں گا  ۔ اسی تکرار میں دونوں میں کشتی ہوئی  ۔ ابلیس نے عابد کو گرادیا اور سینہ پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اگر اس ارادہ سے باز آجائے تو بہتر ورنہ تجھے ذبح کرڈالوں گا ۔ عابد نے معلوم کیا کہ مجھے اس کے مقابلے کی طاقت نہیں  ۔ کہنے لگا کہ اس کی وجہ بتاؤ کہ پہلے تو میں نے تم کوپچھاڑ لیا تھا آج تو غالب آگیا ہے اس کی کیاوجہ ہے؟شیطان بولاکہ کل تو خالص خدا کے لئے درخت کاٹنے نکلا تھا تیری نیت میں اخلاص تھا  ۔ لیکن آج تجھے دو دیناروں کے نہ ملنے کا غصّہ ہے ۔آج تیرا ارادہ محض خدا کے لئے نہیں اس لئے میں آج تجھ پر غالب آگیا ۔

        اس حکایت سے معلوم ہوا کہ شیطان مخلص بندوں پر غلبہ نہیں پا سکتا  ۔ حق سبحانہ و  تَعَالٰی نے اس کی تصریح فرمائی ہے

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ(۴۰) (پ۱۴، الحجر:۴۰)

ترجمہ کنز الایمان:مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں ۔

تومعلوم ہو ا کہ بندہ شیطان سے اخلاص کے سوا نہیں بچ سکتا  ۔ اخلاص ہوتو ابلیس کی کوئی پیش نہیں جاتی۔(احیاء علوم الدین، کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، الباب الثانی فی الاخلاص و فضیلۃ...الخ، ج۵، ص۱۰۴)

الحب فی اللہ  والبغض فی اللہ  

        سلف صالحین کی عادات مبارکہ میں یہ بھی تھا کہ وہ جس شخص سے محبت یا دشمنی رکھتے تھے ، محض خدا کے لئے رکھتے تھے  ۔ دنیا کی کوئی غرض نہیں ہوتی تھی  ۔ یعنی کسی دنیا دار کے ساتھ دنیا کے لئے محبت نہیں رکھتے تھے  ۔ بلکہ ان کا مقصود رضائے حق سبحانہ و  تَعَالٰی ہوتا تھا  ۔ اگر دنیا دارباوجود مالدار ہونے کے دیندار بھی ہوتو بو جہ دین داری کے اس سے محبت رکھتے تھے  ۔ اگر بے دین ہوتو اسے ہدایت کرتے تھے اور یہی کمالِ ایمان ہے ۔چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے ’’من احب للّٰہ وابغض للّٰہ واعطی للّٰہ ومنع للّٰہ فقد استکمل الایمان‘‘.

(سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب الدلیلعلی زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:۴۶۸۱، ج۴، ص۲۹۰)

          یعنی جس شخص نے کسی کے ساتھ محبت کی تو محض خدا عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے کی، اگر بغض رکھا تو خدا عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے، اگر کسی کو کچھ دیا توخدا  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ، اگر نہ دیا تو خدا  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے، اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا۔

        اللہ  تَعَالٰی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی بھیجی کہ کیا تونے میرے لئے بھی کوئی کام کیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی کہ ہاں میں نے تیرے لئے نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے ، خیرات دی، اور بھی کچھ اعمال عرض کیے  ۔ اللہ  تَعَالٰی نے فرمایا : یہ اعمال تو تیرے لئے ہیں ، کیا تونے میرے دوست کے ساتھ میرے لئے محبت کی اور میرے دشمن کے ساتھ میرے لئے



Total Pages: 24

Go To