Book Name:Akhlaq us Saliheen

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الفصل الثالث، الحدیث: ۷۴۷، ج۱، ص۱۵۶)

      یہاں سے معلوم کرلینا چاہیے کہ دین میں ادب کی کس قدر ضرورت ہے اور سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے قبلہ شریف کی بے ادبی کرنے کے سبب منع فرمایا کہ ’’یہ شخص نماز نہ پڑھائے ‘‘۔جو شخص سر سے پاؤں تک بے ادب ہو ، سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے حق میں گستاخ ہو، ائمہ دین کی بے ادبی کرتاہو، حضرات مشائخ پر طرح طرح کے تمسخر کرے، ایسا شخص امام بننے کا شرعاً حق رکھتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔

        حضرت ابو سلیمان دارانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :  ربما یقع فی قلبی النکـتۃ من نکت القوم ایاما فلا اقبل منہ الا بشاہدین عدلین الکتاب والسنۃ.

 (الرسالۃ القشیریۃ، باب فی ذکرمشایخ ہذہ الطریقۃ، ابوسلیمان عبد الرحمٰن بن عطیۃ الدارانی، ص۴۱)

         کہ بسا اوقات میرے دل میں کوئی نکتہ نکتوں میں سے واقع ہوتاہے تو میں  قبول نہیں کرتا جب تک قرآن وحدیث دو شاہد اس کے مثبت نہ ہوں ۔

        حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ اللہ  تَعَالٰی کی محبت کی علامات میں سے ہے کہ جناب رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے اخلاق و افعال و اوامروسنن میں ان کی متابعت کی جائے ۔(الرسالۃ القشیریۃ، باب فی ذکرمشایخ ہذہ الطریقۃ، ابوالفیض ذوالنون مصری، ص۲۴ )

        حضرت بشر حافی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی عالم رویا میں زیارت کی  ۔ آپ نے فرمایا: اے بشر!  ہل تدری لم رفعک اللّٰہ  تَعَالٰی من بین اقرانک ۔ کہ تو جانتا ہے کہ اللہ  تَعَالٰی نے تیرے ہم عصروں پر تجھے کیوں رفعت دی ؟ میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ  ! میں نے نہیں جانا۔آپ نے فرمایا:

    ’’با تباعک لسنتی وخد     متک للصالحین ونصیحتک لا خوانک و محبتک لاصحابی واھل بیتی وھوالذی بلغک منازل الابرار ۔ ‘‘

(الرسالۃ القشیریۃ، باب فی ذکرمشایخ ہذہ الطریقۃ، ابونصربشر بن الحارث الحافی، ص۳۱)

        میری سنت کی اتباع کے سبب اور صالحین کی خدمت اور برادرانِ اسلام کو نصیحت کرنے کے سبب اور میرے اصحاب واہل بیت کی محبت کے سبب اللہ  تَعَالٰی نے تجھے پاک لوگوں کے مرتبہ میں پہنچا یا  ۔  (الیٰ ھھنا منقول من رسالۃ القشیری)

        اب سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ علماء طریقت و مشائخ ملت و کبرائے حقیقت ہیں اور یہ سب کے سب شریعت محمدی کی تعظیم کرتے ہیں اور اپنے باطنی علوم کو ملت حنفیہ وسیرت احمدیہ کے تابع رکھنا لازم سمجھتے ہیں تو اب وہ جہلاء قوم جو شریعت کی بالکل پابندی نہیں کرتے ، نماز روزہ پر تمسخر اڑاتے ہیں ، داڑھیاں چٹ کراکے رات دن بھنگ اور چرس پیتے ہیں اور اپنے آپ کو خدا رسیدہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شرع کی اور فقیر کی قدیم سے مخالفت چلی آئی ہے ۔اور کہتے ہیں کہ ظاہری علم کے ترک سے وصول الی اللہ  حاصل ہوتا ہے وغیرہ  ذالک من الخرافات، ہرگز ہرگز درجۂ ولایت کو نہیں پہنچ سکتے ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز لازم ہے  ۔ مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا ہے     ؎

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست        پس بہر دستے نباید داد دست

        اور یہ بھی معلوم ہوگیاکہ طریق اہل اللہ  مطابق شریعت ہے اور جو لوگ شریعت کے پورے پورے تابعدار ہیں وہی اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کے اولیاء اور مقبول ہیں اور طریقت اسی شریعت کا نام ہے لیکن یاد رہے کہ اولیائے کرام و مشائخ عظام جو کتاب و سنت کا اتباع کرتے تھے تو بتوسط مجتہد کرتے تھے  ۔ کوئی ان میں سے جو کہ مجتہد نہ تھا ، غیر مقلد نہ ہوا، چنانچہ درمختار میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم ادہم، حضرت شقیق بلخی، معروف کرخی، ابو یزید بسطامی، حضرت فضیل بن عیاض، حضرت داود طائی، حضرت ابو حامد اللفاف، خلف بن ایوب، حضرت عبداللہ  ابن مبارک ، حضرت وکیع بن الجراح اور حضرت ابو بکروراق وغیرہم  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم بہت سے اولیاء کرام حضرت امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے مذہب پر ہوئے ہیں ۔(در مختارص۶ ) (الدرالمختار، المقدمۃج۱، ص۱۴۰)    

ہمہ شیراں جہاں بستہ ایں سلسلہ اند      روبہ از حیلہ چساں بگسیلد ایں سلسلہ را

اخلاص

        سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا  ۔ وہ ہرایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا  ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں  ۔ وہ لوگوں میں زاہدعابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا  ۔ ان کا مقصودمحض رضائے حق سبحانہ و  تَعَالٰی ہوتاتھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں  ۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت معاذ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ     کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل.          (المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴، ج۵، ص ۴۳۵)

        کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(حاکم) حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ ناظرین سے مخفی نہیں کہ ایک لڑائی میں ایک کافر پر آپ نے قابو پالیا  ۔ اس نے آپ کے منہ مبارک پر تھوک دیاتو آپ نے اسے چھوڑ دیا  ۔ وہ حیران رہ گیا کہ یہ بات کیا ہے ؟بجائے اس کے کہ انہیں غصّہ آتا اور مجھے قتل کردیتے انہوں نے چھوڑدیا ہے  ۔ حیران ہوکر پوچھتا ہے تو آپ فرماتے ہیں    ؎

گفت من تیغ از پئے حق مے زنم               بندۂ حقم نہ مامور تنم

      شیر حقم نیستم شیر ہوا                  فعل من بر دین من باشد گواہ

         کہ میں نے محض رضائے حق کے لئے تلوار پکڑی ہے میں خدا کے حکم کا بندہ ہوں اپنے نفس کے بدلہ کے لئے مامور نہیں ہوں ۔میں خدا کا شیر ہوں اپنی خواہش کا شیر نہیں ہوں  ۔ چونکہ میرے منہ پر تونے تھوکا ہے اس لئے اب اس لڑائی میں نفس کا دخل ہوگیااخلاص جاتارہا، اس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے کہ میرا کام اخلاص سے خالی نہ ہو    ؎

چونکہ درآمدعلتے اندر غزا    تیغ را دیدم نہاں کردن سزا

        جب اس جنگ میں ایک علّت پیدا ہوگئی جو اخلاص کے منافی تھی تو میں نے تلوار کا روکنا ہی مناسب سمجھا  ۔ وہ کافر حضرت کا یہ جواب سن کر مسلمان ہوگیا ۔اس پر مولانا رومی فرماتے ہیں   ؎

 



Total Pages: 24

Go To