Book Name:Akhlaq us Saliheen

        کہ ہماری کتاب قرآن شریف سب کتابوں کی سردار و جامع ہے اور ہماری شریعت سب شریعتوں سے واضح اور ادق ہے اور اہل تصوف کا طریق قرآن و سنت کے ساتھ مضبوط کیا گیا ہے  ۔ جو شخص قرآن و سنت نہ جانتا ہو، نہ اُن کے معانی سمجھتاہو، اس کی اقتداء صحیح نہیں ، یعنی اسے اپنا پیشوا بنانا جائز نہیں ۔

        اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اپنے احباب سے فر مایا کرتے تھے:ا گر تم کسی آدمی کو ہوا میں چار زانوبیٹھا دیکھو تو اس کا اتباع نہ کرو تاوقتیکہ امرونہی میں اس کی جانچ نہ کرلو  ۔ اگر اسے دیکھو کہ وہ امر الٰہی پر کاربند اور نواہی سے پرہیز کرتا ہے ، تو اس کو سچا جانو اور اس کا اتباع کرو  ۔ اگر ایسا نہ ہوتو اس سے پرہیز رکھو۔         (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، شروعہ فی المقصود، ص۱۸)

        امام شعرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ ایک ایسا شخص میرے پاس آیا جس کے ساتھ اس کے معتقدین کی ایک جماعت تھی ، وہ شخص بے علم تھا  ۔ اس کو فناوبقا میں کوئی ذوق حاصل نہ تھا ۔ میرے پاس چند روز ٹھہرامیں نے اُسے ایک دن پوچھا کہ وضو اور نماز کی شرطیں بتاؤ کیا ہیں ؟ کہنے لگا:میں نے علم حاصل نہیں کیا  ۔ میں نے کہا: بھائی قرآن و سنت کے ظاہر پر عبادات کا صحیح کرنا لازم ہے جو شخص واجب اور مستحب، حرام اور مکروہ میں فرق نہیں جانتا وہ تو جاہل ہے اور جاہل کی اقتداء نہ ظاہر میں درست ہے نہ باطن میں  ۔ اس نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور چلا گیا اللہ  تَعَالٰی نے مجھے اس کے شر سے بچالیا  ۔  (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، شروعہ فی المقصود، ص۱۹ملخصاً)

        معلوم ہواجو لوگ تصوف کو قرآن وسنت کے خلاف سمجھتے ہیں ، وہ سخت غلطی پر ہیں  ۔ بلکہ تصوف میں اتباع قرآن و سنت نہایت ضروری امر ہے  ۔ کیونکہ قوم کی اصطلاح میں صوفی وہی شخص ہے جو عالم ہو کر اخلاص کے ساتھ اپنے علم پر عمل کرے  ۔ ہاں حضرات مشائخ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم  اپنے ارادت مندوں کو مجاہدات وریاضات کی ہدایت کرتے ہیں جو عین اتباعِ شریعت ہے  ۔ متقدمین میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جب کسی امر میں ان کو کتب شرعیہ میں کوئی دلیل نہ ملتی تھی تووہ جناب رسول مقبول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مقدس جناب میں اپنے دلوں کے ساتھ متوجہ ہوتے اور بارگاہ عالیہ میں پہنچ کر اس مسئلہ کو دریافت کرلیا کرتے تھے اور حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کے ارشاد پر عمل کرلیا کرتے تھے  ۔ امام شعرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ انّ مثل ذلک خاصٌ باکابرالرجال کہ یہ بات اکابر کے لئے خاص ہے  ۔  (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، شروعہ فی المقصود، ص۲۰ملتقطًا)

        حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ اتبع طرق الھدی ولا یضرک قلۃ السالکین وایاک وطرق الضلالۃ ولا تغتر بکثرۃ السالکین۔

 (نزھۃ الناظرین للشیخ تقی الدین عبد الملک، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ص۱۱)

         یعنی ہدایت کا طریقہ اختیار کرو اس پر چلنے والے تھوڑے بھی ہوں تو بھی مضر نہیں اور گمراہی کے راستوں سے بچو گمراہی پر چلنے والے بہت ہوں توبھی مفید نہیں ۔

        ابو یزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :لو نظرتم الی رجل اعطی من الکرامات حتی تربع فی الھواء فلا تغتروا بہ حتی تنظروا کیف تجدونہ عند الامر والنہی وحفظ الحدود واداء الشریعۃ.(نزھۃ الناظرین للشیخ تقی الدین عبد الملک، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ص۱۱)        

        یعنی اگر تم دیکھو کہ ایک شخص جسے یہاں تک کرامات دی گئی ہیں کہ وہ ہوا پر چار زانوبیٹھے تو اس کے دھوکے میں نہ آؤ یہاں تک کہ دیکھو کہ وہ اللہ  تَعَالٰی کے امر ونہی وحفظ حدوداور ادائے شریعت میں کیسا ہے ۔

         سید الطائفہ جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : الطرق کلھا مسدودۃ الا علی من اقتفی اثر الرسول وقال من لم یحفظ القراٰن ولم یکتب الحدیث لا یقتدی بہ فی ھذا الامر لان علمنا مقید بالکتاب والسنۃ.(نزھۃ الناظرین للشیخ تقی الدین عبد الملک، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ص۱۱)

        کہ سب راستے بند ہیں مگر جو شخص رسول کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اتباع کرے اور فرمایا کہ جس شخص نے قرآن یاد نہ کیا ہو اور نہ حدیث لکھی ہو اس کی اقتداء اس امر میں نہ کی جائے گی کیونکہ ہمارا علم قرآن و حدیث کے ساتھ مقید ہے ۔ابو سعید خراز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ جو باطن ظاہر شرع کے خلاف ہو وہ باطل ہے ۔  (نزہۃ الناظرین، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ص۱۱) حضرت سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :

        (الصوفی)ھو الذی لا یطفیٔ نور معرفتہ نور ورعہ ولا یتکلم بباطن فی علم ینقضہ علیہ ظاہر الکتاب ولا تحملہ الکرامات علی ھتک محارم اللّٰہ تعالٰی.   

(وفیات الاعیان، حرف السین المھملۃ، ابوالحسن سری بن مغلس، ج۲، ص۲۹۹)

کہ صوفی وہ شخص ہے جس کی معرفت کا نور اس کی پرہیز گاری کے نور کو نہ بجھائے یعنی اوامر پر اس کا عمل ہو اور نواہی سے بچتا ہو اور کوئی باطن کی ایسی بات نہ کرے جس کو ظاہر قرآن توڑتا ہواور کرامات اسے اللہ       عَزَّ وَجَلَّ   کی محرمات کی ہتک پر برانگیختہ نہ کریں  ۔ حاصل یہ ہے کہ وہ شریعت کا سچاوپکا تابعدار ہو۔

        ایک شخص جس کی زیارت کے لئے دور دور سے لوگ آتے تھے وہ بڑا مشہور زاہد تھا  ۔ اس کی شہرت کی خبر سن کر حضرت ابو یزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اپنے بعض احباب کو فرمایا:قم بنا حتی ننظر الی ھذا الرجل الذی قد شھر نفسہ بالولایۃ ۔  کہ آؤ ہم اس شخص کو دیکھیں جس نے اپنے آپ کو ولی مشہور کررکھا ہے ۔جب آپ اس کے پاس گئے اور وہ گھر سے باہر نکلا اور مسجد میں داخل ہواتو اس نے قبلہ شریف کی طرف منہ کرکے تھوکا، تو حضرت ابویزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس کا یہ فعل دیکھ کر بغیر ملاقات واپس چلے آئے اور اس کو سلام بھی نہ کیا اور فرمایا:ھذا غیر مامون علی ادب من آداب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فکیف ما مونا علی مایدعیہ. (الرسالۃ القشیریۃ، باب فی ذکر مشایخ ہذہ الطریقۃ، ابویزید بن طیفور بن عیسی البسطامی، ص۳۸)

        کہ یہ شخص رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے آداب میں سے ایک ادب کا بھی امین نہیں تو ولایت جس کا یہ دعویٰ کرتاہے اس کا امین کیسے ہوسکتاہے ۔

      یہاں سے معلوم ہوسکتاہے کہ حضرات مشائخ کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمکس قدر شریعت کے پابند تھے  ۔ مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک شخص کو دیکھاکہ اس نے قبلہ کی طرف منہ کرکے تھوکا ہے تو آپ نے فرمایا:  ’’ لایصلی لکم‘‘کہ یہ تمہاری جماعت نہ کرائے  ۔ اُ س نے پھر جماعت کرانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو منع کیا اور اس کو خبر دی کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے تمہارے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے  ۔ پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں یہ واقعہ پیش ہوا توآپ نے فرمایا: ہاں ( میں نے منع کیا ہے)  انک قد اذیت اللّٰہ ورسولہ کہ تونے (قبلہ کی طرف تھوک کر)اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا دی ۔(ابو داؤد)

 



Total Pages: 24

Go To