Book Name:Akhlaq us Saliheen

  (۲)نماز حنفی مدلل         (۳)صداقت الاحناف     

  (۴)کتابُ التراویح         (۵)ضرورت ِفقہ

  (۶)کشفُ الغطائ  (۷)اربعین نبویہ

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ۹۰ سال کی عمر میں ۱۵ جنوری ۱۹۵۱ء میں داعی اجل کو لبیک کہا ۔ دورے والی مسجد کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ(ضیا کوٹ) میں آپ کا مزارِ پُرانوار ہے۔

        اللہ       عَزَّ وَجَلَّ   کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

                        اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

پہلی نظر

        اس دور پرفتن میں بدامنی وبے چینی کا پورے عالم پر تسلط ہے اور انسان اپنی بدعملیوں کے باعث انتہائی کرب وپریشانی کی گرفت میں آچکا ہے ۔ اس مصیبت کی بڑی اور حقیقی وجہ خوف خدا عَزَّ وَجَلَّ  کا فقدان اور اتباع رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روگردانی ہے ۔ حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد نبی تو کوئی پیدا نہیں ہو سکتا، ہاں اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمکا سلسلہ جاری ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت میں ایسے ایسے نفوسِ قدسیہ پیدا ہوئے جن کا وجود حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کامل اتباع کی بدولت ہم جیسے بدعملوں کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔ ان اللہ  والوں کے اخلاق اور ان کی سیرت کا پڑھناپڑھانا، سنناسنانااور اسے اپنانا مسلمانوں کے دین و دنیا کو سنوارنے کے لیے ایک کامیاب علاج ہے۔ان اللہ  والوں نے اپنی زندگیاں کس رنگ میں گزاریں ، ان کے دن رات کیسے بسر ہوتے رہے، ان کاایک ایک لمحہ کس طرح گزرتارہا ، ان باتوں کا جواب دل کے کانوں سے سنا جائے اور پھر اسے اپنا دستور العمل بنالیا جائے تو یقیناہماری یہ جملہ پریشانیاں دور ہو سکتی ہیں اور رنج ومصائب میں گھری ہوئی دنیا حقیقی مسرتوں اور سچی خوشیوں سے پھر آشنا ہوسکتی ہے۔

        حقوق اللہ  اور حقوق العباد دو ایسی چیزیں ہیں جن کا خیال رکھنا انسان کے لیے بہرحال ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک سے بھی غفلت برتنا دین ودنیا کے نقصان کا موجب ہے ۔ مگرافسوس کہ آج کل حقوق اللہ  اور حقوق العباد ان دونوں ہی سے غفلت برتی جارہی ہے۔جس کا بھیانک نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ امن وچین عنقا ہے اوربدامنی وبے چینی عام ہے ۔اولیاء کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمحقوق اللہ  وحقوق العباد کی ادائیگی میں ہر وقت سرگرم رہتے تھے اوران کی مبارک زندگیوں میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں نظر آتا جوان سے غفلت میں گزرا ہو۔

        والدی المعظم فقیہ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اور ان اللہ  والوں کے اخلاق اور ان کے مبارک حالات کو مختصر طور پر جمع فرماکر مسلمانوں کے لیے ایک بہترین روحانی تحفہ تیار فرمادیا ہے۔میں درخواست کرتا ہوں کہ اسے باربار پڑھیے اور پڑھائیے ، سنیے اور سنائیے ۔اپنے بچوں کو بھی سمجھائیے اور ان مبارک اخلاق کو اپنائیے ۔ خدا  تَعَالٰی مجھے اور آپ کو ان اللہ  والوں کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

                        ابوالنور محمد بشیرؔ(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ )

 بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

        اس زمانہ میں جبکہ الحاد و زندقہ دن بدن ترقی پر ہے  ۔ کفر وبے دینی کا زور ہے، سچے مسلمان سلف صالحین کے متبع خال خال نظر آتے ہیں ۔کور باطنوں نے اسلام کو بازیچۂ اطفال بنا رکھا ہے، اپنے اپنے خیال سے اسلام کو کسی نے کچھ سمجھ رکھا ہے کسی نے کچھ ، کوئی تو محض ہمدردی کو اسلام سمجھتا ہے ، کوئی بے دینوں سے مل جل کر رہنے میں اتفاق اور اسی کو خلاصۂ اسلام سمجھ کر علمائے دین ومشائخ امت پر تفرقہ بازی کا الزام لگاتا ہے  ۔ کوئی داڑھی منڈانے اور انگریزی ٹوپی پہننے میں اسلام کی ترقی سمجھتا ہے  ۔ کوئی مستورات کی بے پردگی میں اپنا عروج جانتا ہے ۔غرض کہ مذہب کو دنیا سے نیست و نابود کرنے کے لئے ہمہ تن کوشاں ہیں  ۔ میں نے بحکم ’’ اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ  ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان الدین النصیحۃ، الحدیث:۵۵، ص۴۷) اپنے دینی بھائیوں کی ہدایت کے لئے ارادہ کیا کہ صالحین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمکا عملدرآمد ، ان کا طریقہ، اُن کے اخلاق لکھوں تاکہ سچے مسلمانوں کا طریقہ پیش نظر رہے اور ہم کوشش کریں کہ حق سبحانہ و تَعَالٰی ان بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمکے قدم بقدم چلنے کی توفیق دے اور ہماری عادات ، ہمارے اخلاق ، ہمارا تمدن بعینہ وہ ہو جو اُن حضرات کا تھااورجس شخص کو ہم اس کے برخلاف دیکھیں ، وہ کیساہی لیکچرار، کیسا ہی لیڈر ہو ، اس کی صحبت کو ہم قاتل سمجھیں  ۔

وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ

اتباع  ِقرآن و سنّت

        سلف صالحین کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ وہ ہر امر میں قرآن و سنت کا اتباع کیا کرتے تھے اوراس کے خلاف کو الحاد وزندقہ سمجھتے تھے  ۔ چنانچہ امام شعرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ’’ تنبیہ المغترین ‘‘میں سید الطائفہ جنید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے نقل کرتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :

              کتابنا ھذا یعنی القراٰن سید الکتب واجمعھا وشریعتنا اوضح الشرائع وادقھا وطریقتنا یعنی طریقۃ اھل التصوف مشیدۃ بالکتاب والسنۃ فمن لم یقرأ القراٰن ویحفظ السنۃ ویفھم معانیھما لا یصح الاقتداء بہ۔    (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، شروعہ فی المقصود، ص۱۸)

 



Total Pages: 24

Go To