Book Name:Akhlaq us Saliheen

          اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’ المدینۃ العلمیۃ  ‘‘ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرما کر دونوں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے ۔ ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا شہادت، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔

                                   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

پیش لفظ

         فقیہ اعظم مولاناابویوسف محمد شریف کوٹلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی مختصر تالیف ’’اخلاق الصالحین‘‘ آپ کے ہاتھوں میں ہے، جس میں بزرگان دین رحمہم اللہ  تَعَالٰی کے اقوال وافعال کو موصوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے بالاختصاراور جامع طور پریکجا کردیاہے ۔  بزرگان دین کی حیات ِمبارکہ میں ہمارے لیے درس وہدایت کے بے شمار مدنی پھول ہیں ، لہٰذا ہمیں ان نفوس قدسیہ کے ارشادات پر عمل پیرا ہوکر اپنے اخلاق وعادات سنوارنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رضائے الٰہی کے حصول میں مشغول ہوجاناچاہئے۔اسی غرض سے مؤلف نے یہ کتاب ترتیب دی ہے ، چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں :

         ’’ میں نے بحکم ’’اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ‘‘  اپنے دینی بھائیوں کی ہدایت کے لئے ارادہ کیا کہ صالحین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم کا عملدرآمد ، ان کا طریقہ، اُن کے اخلاق لکھوں تاکہ سچے مسلمانوں کا طریقہ پیش نظر رہے اور ہم کوشش کریں کہ حق سبحانہ و تَعَالٰی ان بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم   کے قدم بقدم چلنے کی توفیق دے اور ہماری عادات ، ہمارے اخلاق، ہمارا تمدّن بعینہٖ وہ ہو جو اُن حضرات کا تھااورجس شخص کو ہم اس کے برخلاف دیکھیں ، وہ کیساہی لیکچرار، کیسا ہی لیڈر ہو ، اس کی صحبت کو ہم قاتل سمجھیں ۔‘‘

مجلس المدینۃ العلمیۃ(دعوت اسلامی)اس کتاب کوبھی نئے انداز سے  ذیل میں درج امور کے ساتھ شائع کررہی ہے ۔

          (۱)کتاب کی نئی کمپوزنگ ، جس میں رموز اوقاف کا بھی خیال رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

          (۲)احتیاط کے ساتھ پروف ریڈنگ اور اصل کتاب سے مقابلہ۔

          (۳)حوالہ جات کی حتی المقدور تخریج

          (۴)عربی وفارسی عبارات کی تطبیق و تصحیح

          (۵) پیرابندی

          (۶)آیات قرآنی میں مصنف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کاترجمہ برقرار رکھاگیاہے البتہ جہاں ترجمہ نہیں لکھاتھا وہاں کنزالایمان سے ترجمہ لکھ دیا گیا ہے اورآخر میں مآخذو مراجع کی فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔

         اس کتاب کوحتی المقدور احسن انداز میں پیش کرنے کے لیے درج بالا امور کو سرانجام دینے میں المدینۃ العلمیۃ کے علماء نے جو محنت وکوشش کی ہے اللہ       عَزَّ وَجَلَّ   اسے قبول فرمائے اور انہیں بہترین جزاعطافرمائے ، ان کے علم وعمل میں برکتیں دے اور دعوت اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیۃ اوردیگر تمام مجالس کو دن گیارھویں رات بارھویں ترقی عطافرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

        مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوت اسلامی)

کچھ مصنف کے بارے میں

فقیہ اعظم مولانا ابو یوسف محمد شریف قدس سرہ(کوٹلی لوہاراں ، ضیا کوٹ(سیالکوٹ))

        حنفیت وسنیت کے بطَل جلیل مولانا محمد شریف ابن مولانا عبدالرحمن کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ (ضیاکوٹ)میں پیداہوئے۔علومِ دینیہ کی تکمیل والدماجد سے کی۔ان کے وصال کے بعد برصغیر پاک وہند کے ممتاز علماء سے کسبِ فیض کیا ۔ حضرت خوا جہ حافظ عبدالکریم نقشبندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین وملت ، مولانا احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن   سے بھی اجازت وخلافت حاصل تھی ۔ فقیہ اعظم کا لقب آپ ہی نے عطا فرمایا تھا ۔ حضرت فقیہ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فقہ حنفی کی بے بہا خدمات انجام دی ہیں ۔ ہفت روزہ ’’اہل حدیث ‘‘امرتسر میں آئے دن اہل سنت احناف کے خلاف مضامین شائع ہوتے رہتے تھے ۔ حضرت فقیہ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی کوششوں سے امرتسر ہی سے ’’الفقیہ‘‘کے نام سے      ہفت روزہ جاری ہوا جس میں ان اعتراضات کے جوابات نہایت تحقیق ومتانت سے دیے جاتے تھے۔اس جریدے کے علاوہ دیگر مؤقر جرائد میں بھی آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں ۔ آپ عالم شریعت اور شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ مقبول ترین مقرربھی تھے ۔ وعظ وارشاد میں اپنا ایک مخصوص اسلوب رکھتے تھے۔

        حضرت فقیہ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے پنجاب کے اطراف واکناف کے علاوہ کلکتہ اور بمبئی وغیرہ مقامات تک سنیت وحنفیت کا پیغام پہنچایا۔آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس کے تاریخی اجلاس میں شرکت فرمائی اورتحریک پاکستان کی حمایت میں جگہ جگہ تقریریں کیں اور مسلمانوں کو مسلم لیگ کی حمایت ومعاونت پر تیار کیا۔

          آپ نے تصنیف وتالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی ، چند تصانیف یہ ہیں :

   (۱) تائید الامام(حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ کی تالیف الرد علی ابی حنیفۃ کا محققانہ رد)

 



Total Pages: 24

Go To