Book Name:Akhlaq us Saliheen

ہے اور قبر ہمارے آگے اور قیامت ہمارے لئے وعدہ کی جگہ اور جہنم ہمارے لئے راستہ اور اللہ  تَعَالٰی کے سامنے کھڑا ہونا ہے پھر ہم کیسے خوش ہوسکتے ہیں ۔

(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان احوال الصحابۃ...الخ، ج۴، ص۲۲۷)

        حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک جانور کو دیکھ کر فرمایا:’’یالیتنی مثلک یا طائر ولم اخلق بشراً ‘‘  کاش میں پرندہ ہوتا (تو عذاب سے مامون ہوتا) اور بشر نہ ہوتا۔

(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ...الخ، ج۴، ص۲۲۶)

        حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے تھے کہ میں دوست رکھتا ہوں کہ میں درخت ہوتا جو کاٹا جاتا۔(کتاب الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد ابی ذ ر رضی اللہ  عنہ، الحدیث:۷۸۸، ص۱۶۹)

         دوستو !سلف صالحین کی طرف خیال کروو ہ کس قدر خوف الٰہی رکھتے تھے  ۔ اب تم اپنے حالات پر غور کرو کیا تمہیں کبھی آیاتِ عذاب سن کر رونا آیا ہے؟ کبھی خوفِ الٰہی سے غش ہوا ہے ؟کبھی کلامِ الٰہی سن کر تمہارے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوئے ہیں ؟ اگر نہیں تو قساوتِ قلبی کا علاج کرواور کسی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے مقبول کی غلامی اختیار کرکے اس سے اپنے امراضِ باطنیہ کا علاج کراؤ  ۔ اللہ  تَعَالٰی اپنے شفا خانۂ حقیقی سے تجھے شفا عنایت کرے گا اور ضرور کرے گا کہ اس کا وعدہ سچاہے ۔

مَدَنی ماحول اپنا لیجئے

(از:مجلس المدینۃ العلمیۃ)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        گناہوں سے بچنے اور نیک بننے کے لئے تبلیغ ِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت ِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے۔ان شآء اللہ       عَزَّ وَجَلَّ   ! مدنی ماحول کی برکت سے اعلیٰ اخلاقی اوصاف غیرمحسوس طور پر آپ کے کردار کا حصہ بنتے چلے جائیں گے  ۔ اپنے شہر میں ہونے والے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت اور راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کرنے والے عاشقان ِ رسول کے مدنی قافلوں میں سفر کیجئے  ۔ اِن مدنی قافلوں میں سفر کی برکت سے اپنے سابقہ طرزِزندگی پر غوروفکر کا موقع ملے گا اور دل حُسن ِ عاقبت کے لئے بے چین ہوجائے گا جس کے نتیجے میں ارتکاب ِ گناہ کی کثرت پر ندامت محسوس ہوگی اور توبہ کی توفیق ملے گی ۔ عاشقان ِ رسول کے مدنی قافلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں زبان پر فحش کلامی اور فضول گوئی کی جگہ دُرُود ِ پاک جاری ہوجائے گا ، یہ تلاوتِ قرآن ، حمد ِ الٰہی اور نعت ِرسول صلَّی اللہ  تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکی عادی بن جائے گی ، غُصیلہ پن رخصت ہوجائے گا اور اس کی جگہ نرمی لے لے گی ، بے صبری کی عادت ترک کرکے صابروشاکر رہنا نصیب ہوگا ، بدگمانی کی عادتِ بد نکل جائے گی اور حسنِ ظن کی عادت بنے گی ، تکبر سے جان چھوٹ جائے گی اوراِحترامِ مسلم کا جذبہ ملے گا، دنیاوی مال ودولت کی لالچ سے پیچھا چھوٹے گا اور نیکیوں کی حرص ملے گی ، الغرض بار بار راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کرنے والے کی زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہوجائے گا۔

 میں فنکار تھا

  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

       آئیے !گناہوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے ایک فنکار کا واقِعہ پڑھئے جسے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول نے مَدَنی رنگ چڑھا دیا ۔ چُنانچِہاورنگی ٹاؤن ( بابُ المدینہ کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے: افسوس صد کروڑ افسوس! میں ایک فنکار تھا، میوزیکل پروگرامز اور فنکشنز کرتے ہوئے زندگی کے انمول اوقات برباد ہوئے جارہے تھے، قلب ودماغ پر غفلت کے کچھ ایسے پردے پڑے ہوئے تھے کہ نہ نَماز کی توفیق تھی نہ ہی گناہوں کا احساس  ۔ صحرائے مدینہ ٹُول پلازہ سُپر ہائی وے بابُ المدینہ کراچی میں بابُ الاسلام  سطح پر ہونے والے تین روزہ سنّتوں بھرے اجتِماع (۱۴۲۴ ھ ۔ 2003 ء) میں حاضِری کیلئے ایک ذِمّہ دار اسلامی بھائی نے انفِرادی کوشِش کر کے ترغیب دلائی ۔ زہے نصیب! اُس میں شرکت کی سعادت مل گئی۔تین روزہ اجتِماع کے اختتام پر رقّت انگیز دُعا میں مجھے اپنے گناہوں پر بَہُت زیادہ نَدامت ہوئی ، میں اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا ، پھوٹ پھوٹ کر رویا، بس رونے نے کام دکھادیا!   اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  مجھے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول مل گیا۔اور میں نے رقص و سَرود( سَ۔رَوْ۔د) کی محفلوں سے توبہ کر لی اور مَدَنی قافِلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیا۔

        25دسمبر 2004 کو میں جب مَدَنی قافِلے میں سفر پر روانہ ہو رہا تھا کہ چھوٹی ہمشیرہ کا فون آیا، بھرّائی ہوئی آواز میں انہوں نے اپنے یہاں ہونے والی  نابینا بچّیکی ولادت کی خبر سنائی اور ساتھ ہی کہا ، ڈاکٹروں نے کہہ دیا ہے کہ اِس کی آنکھیں روشن نہیں ہوسکتیں  ۔ اتناکہنے کے بعد بند ٹوٹا اور چھوٹی بہن صدمے سے بِلک بِلک کر رونے لگی  ۔ میں نے یہ کہکر ڈھار س  بندھا ئی کہ اِنْ شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  مَدَنی قافِلے میں دعاء کروں گا  ۔ میں نے مَدَنی قافِلے میں  خود بھی بَہُت دعائیں کیں اور مَدَنی قافِلہ والے عاشِقانِ رسول سے بھی دعائیں کروائیں ۔ جب مَدَنی قافلے سے پلٹا تو دوسرے ہی دن چھوٹی بہن کا مُسکراتا ہوا فون آیا اور انہوں نے خوشی خوشی یہ خبرِ فرحت اثرسنائی کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   میری نابینا بیٹی مہک کی آنکھیں روشن ہو گئی ہیں اور ڈاکٹرزتَعَجُّب کر رہے ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا ! کیوں کہ ہماری ڈاکٹری میں اس کا کوئی علاج ہی نہیں تھا۔یہ بیان دیتے وقت اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مجھے بابُ المدینہ کراچی میں عَلاقائی مُشاوَرت کے ایک رُکن کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے لئے کوشِشیں کرنے کی سعادتیں حاصِل ہیں ۔

آفتوں سے نہ ڈر، رکھ کرم پر نظر                      روشن آنکھیں ملیں ، قافِلے میں چلو

آپ کو ڈاکٹر ، نے گو مایوس کر                بھی دیا مت ڈریں ، قافِلے میں چلو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کتنا پیارا پیارا ہے  ۔ اِس کے دامن میں آ کرمُعاشَرہ کے نہ جانے کتنے ہی بگڑے ہوئے افراد با کردار بن کر سنّتوں بھری باعزَّت زندگی گزارنے لگے نیز مَدَنی قافِلوں کی بہاریں بھی آپ کے سامنے ہیں ۔ جس طرح مَدَنی قافِلوں میں سفر کی بَرَکت سے بعضوں کی دُنیوی مصیبت رخصت ہو جاتی ہے ۔

 



Total Pages: 24

Go To