Book Name:Akhlaq us Saliheen

        اسی طرح ایک شخص اپنی ترازو کو مٹی وغیرہ سے صاف نہیں کرتا تھا اسی طرح چیز تول دیتا تھا جب وہ مرگیا تو اس کو قبر میں عذاب شروع ہوگیا  ۔ یہاں تک کہ لوگوں نے اس کی قبر میں سے چیخنے چلانے کی آواز سنی تو بعض صالحین نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مما للعباد علیہم، ص۵۸)

 تو اس کی برکت سے اللہ  تَعَالٰی نے اس کے عذاب کو دفع کیا۔

        حضرت ابو میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ ایک میت کو قبر میں عذاب ہورہا تھا اور اس سے آگ کے شعلے ظاہر ہوئے تو مردہ نے پوچھا :مجھے کیوں مارتے ہو؟ فرشتوں نے کہا کہ تو ایک مظلوم پر گزرا، اس نے تجھ سے استغاثہ کیا مگر تونے اس کی فریاد رسی نہ کی اور ایک دن تونے بے وضو نماز پڑھی ۔   (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مما للعباد علیہم، ص۵۹)

        شریح قاضی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرمایا کرتے تھے: ’’ایاکم والرشوۃ فانھا تعمی عین الحکیم‘‘(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مما للعباد علیہم، ص۵۹)

کہ تم رشوت سے بچا کرو کہ رشوت حکیم کی آنکھ کو اندھا کردیتی ہے  ۔ حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  جب کسی حاکم کو دیکھتے کہ وہ مساکین پر کچھ تصدق کرتا ہے تو آپ فرماتے: اے صدقہ دینے والے تونے جس پر ظلم کیا ہو اس پر رحم کراور اس کی داد رسی کر کہ یہ کام صدقات سے بہت بہتر ہے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مما للعباد علیہم، ص۵۹)

         حضرت میمون بن مہران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی پر ظلم کرے پھر اس گناہ سے نجات حاصل کرنا چاہے تو چاہیے کہ ہر نماز کے بعد اس شخص کے حق میں دعائے مغفرت کرے تو اللہ  تَعَالٰی اس کے گناہ معاف کردے گا ۔  (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مما للعباد علیہم، ص۵۹)

          میں کہتا ہوں : یہ اس صورت میں ہے کہ وہ مظلوم فوت ہوجائے اوراگر زندہ ہو تو اس سے معاف کرائے  ۔ حضرت میمون بن مہران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ بعض اوقات نمازی نماز میں اپنے آپ پر لعنت کہتا ہے اور وہ جانتا نہیں  ۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ فرمایا کہ وہ پڑھتا ہے:

اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۸)                    (پ۱۲، ہود :۱۸)

ظالموں پر اللہ  کی لعنت۔

 اور وہ خود ظالم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے نفس پر بسبب گناہوں کے ظلم کیا ہوتا ہے اور لوگوں کے اموال ظلماً اس نے لیے ہوتے ہیں ۔        (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مما خوفہم للعباد، ص۵۹)

اور کسی کی بے عزتی کی ہوتی ہے تو  لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَاس کو بھی شامل ہوتی ہے۔

        حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن لوگوں پر ظلم کرتاہے آپ نے فرمایا کہ تو ڈرتا نہیں ؟ایسے دن میں ظلم کرتا ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اور جس دن تیرا باپ آدم علیہ السلام پیدا ہوا ۔          (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مما خوفہم للعباد، ص۶۰)

        حضرت احمد بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ دنیا سے کئی قومیں کثرت حسنات کے ساتھ غنی نکلیں گی اور قیامت میں مفلس ہوں گی کہ حقوق العباد میں سب حسنات کھو بیٹھیں گی ۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مما خوفہم للعباد، ص۶۰)

           حضرت سفیان ثوری  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں :  اگر تو ستر گناہ اپنے خالق کے، لئے ہوئے خالق کے دربار میں پیش ہو تویہ اس سے بہتر ہے کہ تو مخلوق کا ایک گناہ لے کر جائے ۔

(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مما خوفہم للعباد، ص۶۰)

         یعنی حقوق العباد میں سے ایک گناہ خدا تَعَالٰی کے ستر گناہ سے بہت بڑا ہے ۔

        پیارے ناظرین! غورفرماویں کہ بزرگانِ دین رحمہم اللہ  المبین کو حقوق العباد کا کس قدر خوف تھا ۔ تو ہمیں بھی چاہیے کہ ان بزرگوں کے اتباع میں حقوق العباد سے بچتے رہیں اور حتی الوسع اپنی حیاتی میں حقوق العباد کی نسبت اپنا معاملہ صاف کرلینا چاہیے۔

قیامت کا ڈر

        سلف صالحین کی عادات مبارکہ میں سے تھا کہ وہ جب قیامت کے ہولناک حالات سنتے تھے تو بہت ڈرتے تھے اور جب قرآن شریف سنتے تھے تو انہیں غشی ہوجاتی تھی  ۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک روز یہ آیت پڑھی:

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ(۱۲) وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ(۱۳)           (پ۲۹، المزمل:۱۲تا۱۳)

اللہ  تَعَالٰی فرماتا ہے کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور آگ ہے اور کھانا ہے گلے میں اٹکنے والااورعذاب ہے دکھ دینے والا، توحمران بن اعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سن رہے تھے یہ آیت سنتے ہی غش کھا کرگرے اور وفات پاگئے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مما خوفہم من اھوال القیا     مۃ، ص۶۰)

         ایک دفعہ حضرت یزید رقاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  حضرت عمر بن عبدالعزیز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے پاس گئے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ اے یزید! مجھے کوئی نصیحت کر  ۔ حضرت یزید نے فرمایا: ’’اے امیر المؤمنین! تو وہ پہلا خلیفہ نہیں جو مرے گا یعنی تجھ سے پہلے خلفاء بھی فوت ہوگئے اور تو بھی فوت ہوجائے گا خلیفہ عمرنے رونا شروع کیا اور فرمایاکہ کچھ اور فرمائیے  ۔ حضرت یزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے کہا کہ تیرے اور حضرت آدم علیہ السلام کے درمیان تیرے آباء میں سے کوئی زندہ نہیں ہے  ۔ پھر خلیفہ روئے اوربہت روئے اور فرمایا کہ اور فرمائیے  ۔ انہوں نے فرمایاکہ جنت اور دوزخ کے درمیان کوئی تیسرا مقام نہیں اس پرحضرت عمربن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  روئے اور غش کھا کر گر پڑے۔

 (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مماخوفہم من اھوال القیامۃ، ص۶۱)

        حضرت حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ایک بار اذان دیتے ہوئے جب