Book Name:Akhlaq us Saliheen

اپنا نفس تیرے لئے ذبح کردوں ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، ما بعد الذ  نب شر منہ، ص۵۶)

        حضرت کہمس بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  چالیس سال روتے رہے صرف اتنی بات کے خوف سے کہ انہوں نے ایک دن ہمسایہ کی مٹی سے اس کی اجازت کے بغیر ہاتھ دھوئے ۔

(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، ما بعد الذ  نب شر منہ، ص۵۶)

           حضرت کہمس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ ہم کو یہ خبرپہونچی ہے کہ حق سبحانہ و  تَعَالٰی نے حضرت داود علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ اے داود!(علیہ السلام ) بنی اسرائیل کوکہہ دیجئے کہ تم کو کس طریق سے یہ خبر پہونچی ہے کہ میں نے تمہارے گناہ بخش دئیے کہ تم نے گناہوں پر ندامت چھوڑ دی ہے  ۔ مجھے اپنی عزت و جلالت کی قسم ہے کہ میں ہر گناہگار سے قیامت کے دن اس کے گناہ پر حساب لوں گا  ۔ حضرت امام شعرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ اللہ  تَعَالٰی اپنے فضل وکرم دکھائے گاتاکہ گناہ گار اپنے گناہوں کو دیکھ کر نادم ہو پھر اللہ  تَعَالٰی کا فضل وکرم دیکھے  ۔

 (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، ما بعد الذ  نب شر منہ، ص۵۶)

حضرت عتبہ غلام ایک دن ایک مکان پر پہنچ کر کانپنے لگے اور پسینہ پسینہ ہوگئے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس مکان میں میں نے بچپن کی حالت میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بے فرمانی کی تھی ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، ما بعد الذ  نب شر منہ، ص۵۷)

آج وہ حالت یاد آگئی ہے  ۔ حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  حج کے لئے بصرہ سے پاپیادہ نکلے کسی نے عرض کی کہ آپ سوار کیوں نہیں ہوتے  ۔ آپ نے فرمایاکہ بھاگا ہوا غلام جب اپنے مولاکے دربار میں صلح کے لئے حاضر ہو تو کیا اسے سوار ہوکر آنا چاہیے؟ خدا کی قسم! اگر میں مکہ معظمہ میں انگاروں پر چلتا ہوا آؤں تو بھی کم ہے۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، ما بعد الذ  نب شر منہ، ص۵۷)

        میرے دینی بھائیو! غور کرو بزرگان دین کو کس قدر خشیت الٰہی غالب تھی  ۔

آپ صاحبان صرف اتنا ضرورخیا ل کیاکریں کہ وقوع معصیت تو ہم سے یقینا ہے لیکن وقوع مغفرت مشکوک ہے کیونکہ اللہ  تَعَالٰی نے اپنی مغفرت کو مشیت پر موقوف رکھا ہے جس کاہمیں علم نہیں اس لئے ہمیں رات دن استغفار میں مشغول رہنا چاہیے ۔

حقوق العباد سے ڈرنا

        سلف صالحین کی عاداتِ مبارکہ میں سے یہ بھی تھا کہ وہ حقوق العباد سے بہت ڈرتے تھے خواہ معمولی سی چیز مثلاًکسی کی خلال یاسوزن ہی ہو تو اس سے بھی ڈرتے تھے ۔ خصوصاً جب اپنے اعمال کو نہایت کم سمجھتے توان کے خوف و کرب کی کوئی نہایت نہ ہوتی تھی کہ ہمارے پاس تو کوئی ایسی نیکی نہیں جسے خصم کو اس کے حق کے بدلے قیامت کے دن دے کر راضی کیا جائے  ۔ بسا اوقات کسی ایک ہی مظلمہ کے عوض میں ظالم کی تمام نیکیاں لیکر بھی مظلوم خوش نہ ہوگا۔

        حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو پوچھا: ’’ اتد رون من المفلس من امتی یوم القیامۃ   ‘‘کیا تم جانتے ہو کہ میری امّت میں سے قیامت کے دن مفلس کون ہوگا ؟ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  نے عرض کی: یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جس کے پاس درہم ودینار نہ ہووہ مفلس ہے ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ المفلس      من یاتی    یوم القیٰمۃ بصیام  وصلاۃ وزکاۃ وحج ویاتی وقد     شتم ھذا واکل مال ھذا     وسفک دم ھذا وضرب ھذا فیعطی ھذا من حسناتہ وھذا من حسناتہ فان فنیت قبل ای یقضی ما علیہ اخذ من خطایا ہم فطرح علیہ ثم قذف فی النار‘‘

(صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم، الحدیث:۵۲۸۱، ص۱۳۸۴، باختلاف الالفاظ ۔ تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مما للعباد علیہم، ص۵۷)

یعنی مفلس وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن نماز روزہ زکوٰۃ حج لے کر آئے اور اس نے کسی کو گالی دی ہو ، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون کیا ہو، کسی کو مارا ہو (تو مدعی آجائیں اور عرض کریں کہ پروردگار اس نے مجھے گالی دی ، اس نے مجھے مارا ، اس نے میرامال کھایا، اس نے میرا خون کیا) تو حق سبحانہ و تَعَالٰی اس کی نیکیاں ان مدعیوں کو دید ے تو اگر نیکیاں ختم ہوجائیں کوئی نیکی باقی نہ رہے اور مدعی اگر باقی ہوں تو ان کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے ۔ پھر اس کو دوزخ کا حکم دیا جائے گا اوروہ دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔یعنی حقیقت میں مفلس وہ شخص ہے کہ قیامت کے روز باوجود نماز روزہ حج زکوٰۃ ہونے کے پھر وہ خالی کا خالی رہ جائے ۔

        حضرت عبداللہ  بن انیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ اللہ  جل شانہ وعم نوالہ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا کہ کوئی دوزخی دوزخ میں اور کوئی جنتی جنت میں داخل نہ ہو جب تک وہ حقوق العباد کا بدلہ نہ ادا کرے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مما للعباد علیہم، ص۵۸)

 یعنی جو کسی کا حق کسی نے دبایا ہو اس کا فیصلہ ہونے تک کوئی دوزخ، جنت میں داخل نہ ہوگا ۔

        حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک  نوجوان نے ہر قسم کے گناہوں سے توبہ کی پھر ستر سال عبادتِ الٰہی میں شب و روز لگاتا رہا، دن کو روزہ رکھتا ، رات کو جاگتا کسی سایہ کے نیچے آرام نہ کرتا ، نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا ۔ جب وہ مرگیا، اس کے بعض بھائیوں نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ خدا عَزَّ وَجَلَّ  نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا؟اس نے کہا کہ خدا عَزَّ وَجَلَّ  نے میرا حساب لیا پھر سب گناہ بخش دئیے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر دانتوں میں خلال کیا تھا، اس کے سبب میں آج تک جنت سے محبوس ہوں ۔

(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مماللعباد علیہم، ص۵۸)

یعنی روکا گیا ہوں  ۔ میں کہتاہوں :حدیث شریف میں اس کی تائید آئی ہے کہ اللہ  تَعَالٰی نے تین چیزوں کو تین چیزوں میں مخفی رکھا ہے (۱) اپنی رضا کو اپنی اطاعت میں مخفی رکھا اور(۲)اپنی ناراضگی کو نافرمانی میں اور(۳) اپنے اولیا کو اپنے بندوں میں ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم مما للعباد علیہم، ص۵۸)

 تو ہر اطاعت اور ہر نیکی کو عمل میں لانا چاہیے کہ معلوم نہیں کس نیکی پر وہ راضی ہوجائے گا اور ہر بدی سے بچنا چاہیے کیونکہ معلوم نہیں کہ وہ کس بدی پر ناراض ہے خواہ وہ بدی کیسی ہی صغیر ہو مثلاً کسی کی لکڑی کا خلال کرنا ایک معمولی سی بات ہے یا کسی ہمسایہ کی مٹی سے اس کی اجازت کے بغیرہاتھ دھونا گویا ایک چھوٹی سی بات ہے مگر چونکہ ہمیں معلوم نہیں اس لئے ممکن ہے کہ اس برائی میں



Total Pages: 24

Go To