Book Name:Akhlaq us Saliheen

یعنی جب ایسی مشکلات تیرے سامنے ہیں اور تجھے اپنی نجات کا بھی علم نہیں تو پھر کس خوشی پر ہنس رہا ہے اس کے بعد وہ شخص کسی سے ہنستا ہوا نہیں دیکھا گیا ۔

         حدیث قدسی میں آیا ہے’’ عجبا لمن ایقن بالموت کیف یفرح‘‘ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرماتا ہے ’’تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتاہے پھر کیسے ہنستا ہے ‘‘۔

(شعب الایمان، باب فی ان القد رخیرہ...الخ، الحدیث ۲۱۲، ج۱، ص۲۲۲)

      حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اکوپوچھا گیا کہ خائفین کون ہیں ؟ فرمایا: ’’ قلوبھم بالخوف قرحۃ واعینھم باکیۃ یقولون کیف نفرح والموت من ورا  ئنا وا    لقبر امامنا والقیامۃ موعدنا وعلی جہنم طریقنا وبین یدی اللّٰہ ربنا موقفنا ‘‘(احیاء   علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ...الخ، ج۴، ص۲۲۷)

کہ ان کے دل خوف خدا سے زخمی ہیں ان کی آنکھیں روتی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم کیسے خوشی کریں جب کہ موت ہمارے پیچھے ہے اور قبر ہمارے سامنے ہے اور قیامت ہمارے وعدہ کی جگہ ہے جہنم پر سے گزرنا ہے اور حق سبحانہ و  تَعَالٰی کے سامنے کھڑا ہونا ۔

        حضرت حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ انسان عمدہ جگہ پر مغرور نہ ہو کیونکہ آدم علیہ السلام جو کہ جنت میں نہایت اعلیٰ اور عمدہ جگہ میں تھے ان کو اس جگہ سے باہر تشریف لانا پڑا اور کثرت عبادت پر بھی مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ ابلیس باوجود کثرت عبادت کے ملعون ہوا اور کثرت علم پربھی مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ بلعم جو کہ اسم اعظم کا عالم تھا آخر اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا اورصالحین کی کثرت زیارت کرنے پر بھی مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے اقارب جنہوں نے رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بکثرت زیارت کی تھی جو مسلمان نہ ہوئے توآپ کی زیارت نے ان کو کچھ نفع نہ پہنچایا ۔       (تذکرۃ الاولیاء، باب بیست وہفتم، ذکرحاتم اصم، نیمۂ اول، ص۲۲۵)

        حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  یہاں تک خوفناک اور غمناک رہا کرتے تھے کہ یہی معلوم ہوتا تھا کہ گویا ابھی کوئی تازہ گناہ کرکے ڈررہے ہیں ۔

(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا، ص۴۷)

           حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ رُبّ ضاحک واکفانہ قد خرجت من عند القصار۔           (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا، ص۴۸)

 کہ بہت لوگ ہنسنے والے ہیں حالانکہ ان کے کفن کاکپڑا دھوبیوں کے یہاں سے دھویا ہواآچکا ہے  ۔ ابن مرزوق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے گناہوں کا غم ہے پھر وہ کھانے میں شہد اور گھی جمع کرتاہے تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے  ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا، ص۴۸)

               حضرت اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ حق سبحانہ و  تَعَالٰی نے جو آیت میں

لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ   (پ۱۵، الکہف:۴۹)

ترجمہ کنزالایمان : نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑاجسے گھیر نہ لیا ہو۔

فرمایا ہے اس میں صغیرہ سے مراد تبسم اور کبیرہ سے مراد قہقہہ ہے  ۔ میں کہتاہوں تبسم سے وہ تبسم مراد ہے جو ضحک تک پہنچے، یعنی ایساآواز سے ہنسنا جس کو اہل مجلس سن لیں ورنہ صرف تبسم جس کی آواز نہ ہو رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے ثابت ہے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالد نیا، ص۴۸)

        حضرت ثابت بنانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ مؤمن جب کہ موت سے غافل ہوتوہنستا ہے۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با       لد   نیا، ص۴۸)

 یعنی موت یاد ہوتو اس کو ہنسی نہیں آتی  ۔ حضرت عامر بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :جو شخص دنیا میں بہت ہنستا ہے وہ قیامت میں بہت روئے گا۔     

         (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با       لد   نیا، ص۴۸)

        حضرت سعید بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  چالیس سال تک نہ ہنسے یہاں تک کہ آپ کو موت آگئی  ۔ اسی طرح غزوان رقاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نہیں ہنستے تھے  ۔         

         (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با       لد   نیا، ص۴۸)

     حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ مع کل ضحاک فی مجلس شیطان ‘‘(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا، ص۴۸)

مجلس میں ہر ہنسنے والے کے ساتھ شیطان ہوتاہے  ۔ حضرت معاذہ عدویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ا ایک دن ایسے نوجوانوں پر گزریں جو کہ ہنس رہے تھے اور ان کا لباس صوف کا تھا یعنی لباس صوفیانہ تھاتوآپ نے فرمایا :  سبحان اللّٰہ لباس الصالحین وضحک الغافلین