Book Name:Akhlaq us Saliheen

پر عمل کیااورحق سبحانہ کے فرمودہ علاج میں شب و روز مشغول ہیں  ۔ مسلمانوں کو اصلی معنوں میں مسلمان بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔تو یہی حضراتِ صوفیہ لوگوں کو ذکر الٰہی میں مشغول رکھتے ہیں اور اسی کی ترغیب دیتے ہیں تضرع وزاری کا سبق پڑھاتے ہیں کامل مؤمن بناتے ہیں  ۔ تاکہ حق سبحانہ و تَعَالٰی بادشاہوں کے دلوں میں ان کی محبت و رحمت ڈال دے  ۔ اس حدیث کا یہی مقصود ہے ۔ مگر افسوس کہ فی زمانہ لیڈرانِ قوم حضراتِ صوفیہ صافیہ کے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں ان کی نسبت بد ظنیاں ڈالتے ہیں کہ یہ لوگ خاموش بیٹھے ہیں میدان میں نہیں نکلتے حالانکہ یہی لوگ ہیں جو اس مرض کی اصلیت کو معلوم کرکے اس کے علاج میں مشغول ہیں ۔جلعنی اللّٰہ منھم ۔ امین ۔

        عبدالملک بن مروان اپنی رعیت کوفرمایا کرتے تھے: لوگو! تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارے ساتھ ابوبکر وعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی سیرت اختیار کریں لیکن تم اپنی سیرت ان کی رعیت کی سیرت و خصلت کی طرح نہیں بناتے تم ان کی رعیت کی طرح ہوجاؤ ہم بھی تمہارے ساتھ ابو بکر و عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سا معاملہ کریں گے ۔   (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۳)

        حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسے عالموں کو پایا ہے جو اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے کو افضل سمجھتے تھے  ۔ آج علماء امیروں کے وزیر اور ظالموں کے داروغے بن گئے ہیں ۔       (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴ملخصًا)

        حضرت عطاء بن ابی رباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے کسی نے پوچھا کہ کوئی شخص کسی ظالم کا منشی ہو تو کیا جائز ہے ؟ فرمایا کہ بہتر ہے کہ ملازمت چھوڑدے  ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی تھی:

فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ                     (پ۲۰، القصص:۱۷)

کہ میں مجرموں کا مددگار ہرگز نہ ہوں گا ۔

            (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴، ملخصًا)

        حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ والیوں اور حاکموں کی طر ف سے ان کو عطیات ملیں گے ان کی قیمت ان کا دین ہوگا  ۔

 (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴، ملخصًا)

یعنی لوگ دین دے کر حکام کے عطیات حاصل کریں گے ۔

         حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : جو شخص ظالم کے سامنے ہنسے یا اس کے لئے مجلس میں جگہ فراخ کرے یا اس کا عطیہ لے لے ، تو اس نے اسلام کی رسی کو توڑ ڈالا اور وہ ظالموں کے مددگاروں میں لکھاجاتا ہے ۔    (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴، ملخصًا)

          حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اکثر گھر میں بیٹھے رہتے تھے لوگوں نے دریافت کیا تو فرمانے لگے کہ میں نے اس لئے گھر بیٹھے رہنے کو پسند کیا ہے کہ رعیت خراب ہوگئی ہے سنت جاتی رہی بادشاہوں اور امیروں میں ظلم کی عادت ہوگئی ہے جو شخص اپنی اولاد اور غلام میں اقامت حق میں فرق کرے وہ ظالم ہے ۔   (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴، ملخصًا)

           حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : جب امیر دُبلا ہونے کے بعد موٹا ہوجائے تو جان لو کہ اس نے رعیت کی خیانت کی اور اپنے رب کی خیانت کی ۔

(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴)

           حضرت ابو العالیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ایک دن رشید کے پاس آئے فرمایا کہ مظلوم کی دعا سے بچتے رہنا کہ اللہ  تَعَالٰی مظلوم کی دعا ردنہیں کرتااگر چہ وہ فاجر ہو ۔ ایک روایت میں ہے اگرچہ وہ کافر ہو ۔  (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۵)

 یعنی مظلوم کوئی بھی ہو اس کی آہ سے بچنا چاہیے۔

قلت ضحک

        سلف صالحین کی عاداتِ مبارکہ میں سے قلّتِ ضحک بھی تھا ، وہ کم ہنستے تھے اور دنیا کی کسی شے کے ملنے پر خوش نہیں ہوتے تھے، از قسم لباس ہو یا سواری یا کوئی اور، وہ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو آخرت کی نعمتوں سے کوئی نعمت دنیا میں حاصل ہوگئی ہو  ۔ ان کی عادت دنیا داروں کی عادت کے برخلاف تھی  ۔ دنیا دار تو دنیا ملنے سے خوش ہوتے ہیں لیکن سلف صالحین دنیا ملنے سے خوش نہیں ہوتے تھے۔

        فی الحقیقت جو شخص محبوس ہو وہ کسی شے سے کیسے خوش ہوسکتاہے ۔جس طرح قیدی قید میں مکدر رہتا ہے اسی طرح اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کے مقبول بندے اس دنیا میں غمناک رہتے ہیں  ۔ ان کو یہی خیال رہتا ہے کہ اس دارِ دنیا سے جلدی خلاصی ہو اور حق سبحانہ کی لقاء سے شرف حاصل ہو ۔ حدیث شریف میں آیا ہے ’’ والذی نفسی بیدہ لو تعلمون ما اعلم لضحکـتم قلیلا ولبکیتم کیثرا ولما تلذ ذ تم بالنساء علی الفرش و لخرجتم الی الصعدات تجارون الی اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ ‘‘

(سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب قول النبی لوتعلمون...الخ، الحدیث:۲۳۱۹، ج۴، ص۱۴۰ ۔ تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، قلۃ ضحکہم ومزحہم با  لدنیا، ص۴۷)

        رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور بہت روتے اور عورتوں کے ساتھ فراشوں پر کبھی لذّت نہ اُٹھاتے اور جنگلوں کی طرف نکل جاتے اور خدا  تَعَالٰی کی جناب میں پناہ چاہتے  ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بہت ہنسنا اچھا نہیں ہے جہاں تک ہوسکے خدا کے خوف سے رونا لازم ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تمام مخلوقات سے اعلم ہیں آپ کا علم سب سے زیادہ ہے ۔

        حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہنس رہا ہے آپ نے فرمایا:  یا فتیہل مررت بالصراط اے جوان! کیا تو پل صراط سے گزر چکا ہے؟ اس نے کہا: نہیں ! پھر فرمایا :  ہل تدری ا لی الجنۃ تصیر ام الی النار؟کیا تو جانتا ہے کہ تو جنت میں جائے گا یادوزخ میں ؟ اس نے کہاکہ نہیں !  فرمایا:  فما ھذ ا الضحک  پھر یہ ہنسنا کیساہے؟

(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ...الخ، ج۴