Book Name:Akhlaq us Saliheen

ظاہر کردوں گا۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص۴۰)

یعنی جو شخص خدا کے لئے پوشیدہ عبادت کرے گا اللہ  تَعَالٰی اس کی عبادت کا چرچا دنیا میں کر ے گااوراہل دنیا میں وہ عابد مشہور ہوجائے گا  ۔ حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ ایک بات سے بچنا کہ تو دن میں تو بندہ صالح بنارہے اور رات کو شیطان طالح ہوجائے ۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص۴۱)

             معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : مجھے کوئی ایسا شخص بتائیے جو رات کو روتا ہے اور دن کو ہنستا ہے ۔  (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص۴۱)

 یعنی ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔

        ابو عبداللہ  سمرقندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  لوگوں کو فرماتے تھے جب کہ وہ(لوگ) ان کی تعریف کرتے تھے’’واللّٰہ مامثلی ومثلکم الا کمثل جاریۃ ذہبت بکارتھا بالفجور واہلھا لا یعلمون بذلک فھم یفرحون بھا لیلۃ الزفاف وھی حزینۃ خوف الفضیحۃ‘‘(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص۴۱)

         خدا کی قسم! میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے ایک لڑکی ہو جس کی بکارت بسبب بدکاری کے زائل ہوگئی ہو اور اس کے اہل کو معلوم نہ ہو تو زفاف کی رات کو اس کے اہل تو خوش ہوں گے اور وہ فضیحت کے خوف سے غمناک ہوگی کہ آج میری کرتوت ظاہر ہو جائے گی۔

        حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں ریا کی کثرت ہوگئی ہے  ۔ لوگ عبادت کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کا باطن حسد و حقد ، بغض و عداوت بخل وغیرہ میں مشغول ہے  ۔ اگر تمہیں ان عابدوں کے ساتھ کوئی حاجت پیش آئے تو کسی ایسے عابد یا عالم کو جو اس کے مثل ہو ، سفارش کے لئے نہ لے جانا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا  ۔ البتہ کسی بڑے دولت مند کو سفارشی لے جائے گا تو تیرا کام ہوجائے گا۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص۴۲، ملخصًا)

       حاصل یہ کہ ان لوگوں کو دنیا داروں سے محبت ہوگی اور اپنی عبادت نمودوریا کیلئے کرتے ہوں گے ، اسلئے دنیاداروں کا کہنا تو مان لیں گے لیکن اپنے سے عابدوں ، زاہدوں سے دلی حسد اور بغض ہوگا اسلئے ان کا کہنا نہیں مانیں گے ۔اللہ  اکبر ! یہ اس زمانہ کا حال ہے جو زمانہ نبوت سے بہت قریب تھا تو اب یہاں سے قیاس فرمالیجئے کہ آج کل کیا حال ہے حدیث ِ صحیح میں آیا ہے کہ جو دن آتا ہے اس کے بعد کا دن اس سے براتر ہوتا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب لایا   تی زمان۔۔۔الخ، الحدیث۷۰۶۸، ج۴، ص۴۳۳)

اللہ  تَعَالٰی زمانہ کے حوادث سے محفوظ رکھے آمین ۔

حکام کے ظلم پر صبر کرنا

        سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں سے یہ بھی تھا کہ وہ حاکموں کے ظلم پر نہایت صبر کرتے تھے اور بڑے استقلال سے ان کی تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تکالیف ہمارے گناہوں کی بہ نسبت بہت کم ہیں  ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرمایا کرتے تھے کہ حجاج ثقفی خدا کی طرف سے ایک آزمائش تھا جو بندوں پر گناہوں کے موافق آیا ۔

(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۲)

           سیدنا امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرمایا کرتے تھے:  ’’ اذا ابتلیت بسلطان جائر فخرقت دینک بسببہ فرقعہ بکثرۃ الاستغفارلک ولہ ایضًا‘‘

(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۲)

کہ جب تجھے ظالم بادشاہ کے ساتھ ابتلاء واقع ہوجائے اور اس کے سبب سے تیرے دین میں نقصان پیدا ہوجائے تو اس نقصان کا کثرت استغفار کے ساتھ تدارک کر اپنے لئے اور اس ظالم بادشاہ کے لئے ۔

        ہارون رشید نے ایک شخص کو بے جاقید کیا تو اس شخص نے ہارون رشیدکی طرف لکھا اے ہارون! جو دن میری قید اور تنگی کا گزرتا ہے اسی کے مثل تیری عمر اور نعمت کا دن بھی گزر جاتاہے امر قریب ہے اور اللہ  تَعَالٰی میرے اور آپ کے درمیان ہے جب ہارون نے یہ رقعہ پڑھا اسے رہا کردیا اس پر اور بہت احسان کیا ۔               (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۳)

        حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے پاس لوگ کچھ مال لے کر آئے اور کہا کہ بادشاہ نے یہ مال بھیجا ہے کہ آپ محتاجوں پر تقسیم کردیں  ۔ آپ نے وہ سب مال واپس کردیا اور فرمایا کہ اللہ  تَعَالٰی جب ظالم سے حساب لے گا کہ یہ مال کیسے حاصل کیا تو وہ کہہ دے گا کہ میں نے ابراہیم کو دے دیا تو میں خواہ مخواہ جواب دہ بن جاؤں گا اس لئے جس نے یہ مال جمع کیا ہے وہی تقسیم کرنے کے لئے اَولیٰ ہے۔   (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۳ملخصاً)

        حضرت مالک بن دینا ررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ توریت شریف میں اللہ  تَعَالٰی نے فرمایا ہے کہ بادشاہوں کے دل میرے قبضے میں ہیں جو میری اطاعت کرے گا میں اس کے لئے بادشاہوں کو رحمت بناؤں گا اور جو میری مخالفت کرے گا اس کے لئے ان کو عذاب بناؤں گا پھر تم بادشاہوں کو برا کہنے میں مشغول نہ ہو بلکہ میری درگاہ میں توبہ کرو میں ان کو تم پر مہربان کردوں گا ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۳)

        میں کہتا ہوں حدیث شریف میں بھی یہ مضمون آیا ہے  ۔ مشکوٰۃ شریف کے ص۳۱۵ میں ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرمایا رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کہ حق سبحانہ ارشاد فرماتا ہے:’’ انا اللّٰہ لا الہ